اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 119 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 119

119 کر لیتے ہو۔جیسے میں نے مثال بھی بتائی ہے۔کہ مولوی ثناء اللہ صاحب نے اپنی تقریر میں احمدیت کے خلاف کئی دلائل پیش کئے مگر منشی اروڑے خان صاحب مرحوم نے ان کو ایک فقرے میں ہی رد کر دیا۔انہوں نے کہا مولوی صاحب کے دلائل کا جواب تو کسی مولوی سے پوچھیں میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ جو چہرہ میں نے دیکھا ہے وہ کسی جھوٹے کا چہرہ نہیں ہوسکتا۔یہ دل کی آنکھ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کو مشاہدہ کرنے کا نتیجہ تھا۔اور دل کی آنکھ سے مشاہدہ ہی ایک ایسی چیز ہے جس کے بعد فلسفیانہ دلائل انسان کو دھوکہ نہیں دے سکتے۔تم سورج کو اگر اپنی آنکھوں سے دیکھ لو۔تو پھر کوئی لاکھ دلائل دے کہ سورج اس وقت چڑھا ہوا نہیں تم اس کے دلائل سے متاثر نہیں ہو گے۔حالانکہ کئی امور ایسے ہیں جن میں انسان دوسروں کے کہنے پر دھوکا کھا جاتا اور شبہ میں مبتلا ہو جاتا ہے۔مگر سورج دیکھنے کے بعد کوئی شخص اس کے وجود سے انکار نہیں کرسکتا۔خواہ اس کے خلاف اسے ہزاروں دلائل ہی کیوں نہ دیئے جائیں۔اسی طرح تمہیں اور باتوں میں بیشک دھوکا لگ سکتا ہے۔مگر کیا کوئی شخص تمہیں یہ بھی دھوکا دے سکتا ہے کہ تمہاری بیوی اور بچے تمہاری بیوی اور بچے نہیں۔تم ایسا کبھی نہیں سمجھو گے۔اور اگر کوئی تمہیں اس فریب میں مبتلا کرنا چاہے۔تو تم اسے دھو کا باز اور بدنیت سمجھو گے۔اسی طرح جو لوگ عشق کی آنکھ سے دیکھتے ہیں۔وہ صداقت کا مشاہدہ کر لیتے اور حقیقت تک پہنچ جاتے ہیں مگر جو لوگ محض عقل سے کام لیتے ہیں وہ ہمیشہ قیاس آرائیاں کرتے ہیں اور قیاس کرنے والے ٹھوکر کھا جایا کرتے ہیں۔پس یہ وہ لوگ ہیں جن کے نقش قدم پر جماعت کے دوستوں کو چلنے کی کوشش کرنی چاہیئے۔کہنے والے کہیں گے کہ یہ شرک کی تعلیم دی جاتی ہے۔یہ جنون کی تعلیم دی جاتی ہے۔یہ پاگل پن کی تعلیم دی جاتی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ پاگل وہی ہیں جنہوں نے اس رستہ کو نہیں پایا۔اور اس