اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 94 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 94

۹۴ کی باتوں کی عظمت کا اندازہ ہوتا ہے آپ نے بیان فرمایا : (۱) ذکر الہی حضرت خلیفہ اول نماز عصر سے نماز مغرب تک تنہائی میں درود شریف پڑھا کرتے تھے۔اور فرماتے تھے کہ جمعہ کے روز نماز عصر میں ایک خاص گھڑی دعا کی قبولیت کی آتی ہے۔(۲) قبولیت دعا ایک روز آپ نے فرمایا کہ ایک احمدی فوجی انڈین آفیسر ہمارے پاس آئے اور کہنے لگے کہ حضور دعا فرمائیں کہ میں لڑائی میں بھی نہ جاؤں اور مجھے تمغہ بھی مل جائے۔میں نے کہا کہ ہمیں تو آپ کے قواعد کا علم نہیں۔معلوم نہیں تمغہ کس طرح ملا کرتا ہے۔اس نے کہا کہ میڈل اسے ملتا ہے جو لڑائی میں جائے۔میں نے کہا کہ پھر آپ کو بغیر لڑائی میں جانے کے کیونکر مل سکتا ہے۔وہ کہنے لگے کہ حضور دعا فرمائیں۔ہم نے کہا کہ اچھا ہم دعا کریں گے کچھ عرصہ کے بعد وہ آئے اور بتلایا کہ حضور کی دعا سے مجھے تمغہ مل گیا ہے اور دریافت کرنے پر بتلایا کہ میں BASE میں تھا۔کہ میرے نام حکم پہنچا کہ لڑائی کے میدان میں پہنچو۔میں ڈرا مگر چل پڑا۔ابھی تھوڑی دور ہی گیا تھا مگر وہ حد پار کر چکا تھا۔جس کے عبور کرنے پر ایک فوجی افسر تمغہ کا حقدار متصور ہوتا ہے کہ پھر حکم ملا کہ واپس چلے آؤ۔صبح ہوگئی ہے اور لڑائی بند ہے۔اس طرح حضور کی دعا سے میں لڑائی پر بھی نہیں گیا اور مجھے تمغہ بھی مل گیا۔میں اپنی جوانی اور بچپن میں بہت دبلا پتلا تھا۔جب میں ڈلہوزی سے استعفاء دے کر آیا اور حضرت خلیفہ اول سے پھر ملازمت کرنے کی اجازت چاہی تو آپ نے استعفاء کا حال سن کر فرمایا کہ تم نے انبالہ سے کیوں تبدیلی کرائی تھی۔عرض کیا کہ وہ نوکری پنشن والی نہ تھی۔تو فرمایا کہ تم کو کیا علم ہے کہ تمہاری زندگی اتنی ہی لمبی ہوگی کہ تم پنشن پاؤ گے۔مجھے یقین ہے کہ حضور نے میری اس خواہش کا خیال رکھتے ہوئے جہاں میری ملازمت وغیرہ کے لئے دعا فرمائی ہوگی۔وہاں میری عمر اور پنشن کے لئے بھی دعا کی ہوگی۔کیونکہ میرے وہم میں بھی نہ آتا تھا کہ میں اتنی عمر پاؤں گا۔یعنی چوراسی سال اور میں قریباً تیس سال سے پنشن