اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 53 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 53

۵۳ اور خوشامدانہ رنگ میں کہنے لگے۔بابو صاحب! میں آپ کی مومنا نہ جرات کی داد دیتا ہوں۔آپ نے چائے کی دعوت دی تھی۔دل چاہتا تھا لیکن کیا کریں ہم مولوی جو ہوئے ہمارا گزارہ لوگوں کے چندوں پر ہے۔میں نے کہا سنت اللہ کے مطابق الہی فرستادوں کے ساتھ لوگ ایسا ہی سلوک کرتے ہیں۔آپ لکھتے ہیں کہ قادیان کے ایک دوست میرے پاس سکھر آئے تو میں اُن کے ساتھ سکھر بند پر سیر کے لئے گیا۔وہ دوست میرے کہنے پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اشعار خوش الحانی سے پڑھنے لگے۔ایک سماں بندھ گیا اور کئی لوگ سننے کے لئے ٹھہر گئے۔اتنے میں سکھر کے مشہور استان مولوی عبد الکریم جنہوں نے حضرت مسیح موعود کے خلاف فتویٰ کفر دیا تھا گذرتے ہوئے ٹھہر گئے اس وقت وہ دوست اے محبت عجب آثار نمایاں کر دی والا شعر وجد سے پڑھ رہے تھے۔مولوی صاحب اس مضمون پر اور خوش الحانی پر تو ہو گئے۔میں درخت کے سایہ میں ہو گیا تھا۔اور مولوی صاحب مجھے دیکھ نہیں پائے تھے۔مولوی صاحب جیسی کاپی میں یہ اشعار تحریر کرنے لگے۔انہوں نے پوچھا یہ اشعار کس بزرگ کے ہیں۔اس دوست نے کہا کہ میرے آقا کے ہیں۔مولوی صاحب نے دریافت کیا آپ کے آقا کہاں کے رہنے والے ہیں؟ ان کا اسم شریف کیا ہے؟ اس دوست نے کہا میرے آقا کا مقام رہائش دار الامان ہے۔یہ سنتے ہی مولوی صاحب کا چہرہ فق ہو گیا اور کہنے لگے اوہ ! یہ شعر مرزا کے ہیں اور جھٹ کا پی جیب میں ڈال کر چلتے بنے۔میں نے یہ سب کچھ دیکھ کر انہیں آستین سے پکڑ لیا اور حاضرین کے سامنے کہا مولوی صاحب آپ کو حضرت مرزا صاحب کے نام سے اتنا ہیر کہ ان کے مضمون پر تھو ہوتے ہیں لیکن ان کا نام سُن کر شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہیں۔مولوی صاحب آستین چھڑا کر چلے گئے اور میں نے مجمع سے کہا علماء کا یہ حال ہے کہ حضرت مرزا صاحب کے مضامین و تحریرات پر تو فریفتہ ہیں لیکن ان کی ذات سے عداوت ہے۔امرتسر کے ایک ریلوے انسپکٹر مسٹر لانگ مین نے جو انگریز یا اینگلو انڈین تھا۔تبلیغی گفتگو میں کہا آپ مجھے کیا سمجھتے ہیں؟ عیسائی ؟ میں عیسائی نہیں۔میں نے ایک دفعہ دیکھا کہ قیامت آگئی ہے اور میں اور میری بیوی دونوں دوزانو ہو کر عیسی مسیح اپنے نجات دہندہ کو