اصحاب احمد (جلد 3) — Page 52
۵۲ ہے۔وہاں کونے کی بالائی چھت پر ایک پبلک احمد یہ لائبریری کھولی گئی تھی۔میں اس کا لائبریرین تھا۔بالمقابل بالا خانہ میں ایک نوجوان بازاری عورت کا ٹھکانہ تھا۔نیچے دوکان میں بھانڈ وغیرہ ہوتے تھے۔موقعہ پا کر میں اُسے آیات قرآنیہ سُنا کر نصائح کرتا اور بتاتا کہ بڑھاپے میں ان بوڑھی بازاری عورتوں کا سا تمہارا حشر ہوگا۔اس نوجوانی میں کسی نیک نوجوان سے شادی کرلو۔ورنہ پھر یہ ایام واپس نہ آئیں گے۔بعض دفعہ وہ آبدیدہ ہو جاتی۔اور بالآخر اس نے گندی زندگی کو خیر باد کہہ کر نکاح کر لیا اور چلی گئی۔اس پر وہ بھانڈ میرے پیچھے پڑ گئے اور کہتے کہ اس مرزائی نے ہمارا کام خراب کر دیا ہے۔پ لکھتے ہیں کہ سکھر میں پنجاب سے آمدہ ایک مولوی کی تقریر کا اعلان ہوا۔چونکہ سکھر میں علم کی کمی تھی اور عالم شاذ ہی تھے۔اس لئے پنجابی عالم بہت قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔اس نے چند عربی فقرات کہنے کے بعد کہا پنجاب میں ایک شخص مرزا نے اسلام کے خلاف ایک فرقہ بنایا ہے اور خدائی کا دعویٰ کیا ہے۔میں جھٹ بول اٹھا کون کہتا ہے؟ کس کتاب میں یہ لکھا ہے؟ نا واقف عوام میں کیوں غلط بیانی کرتے ہو؟ مولوی صاحب چونک پڑے اور پوچھنے لگے کیا تم مرزائی ہو؟ تمھارا بولنے کا کیا حق ہے؟ تمھارا کتنا علم ہے؟ میں نے بلند آواز میں کہا حضرت مرزا صاحب کا مذہب قرآن و اسلام کے مطابق ہے اور ان کی تمام کتابوں میں اسلام ہی بیان ہوا ہے۔ان صاحب نے ان کے متعلق غلط بیانی کی ہے۔مولوی صاحب نے کہا یہ مرزائی ہے اسے نکال دو۔چنانچہ لوگوں نے مجھے دھکے دے کر نکال دیا۔میری پگڑی بھی اُتر گئی۔اگلے روز مولوی صاحب پنجابی محلہ میں آئے میں وہاں بھی پہنچا اور سوال کیا۔آیا قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ہم نے حضرت عیسی کو زندہ آسمان پر اٹھا لیا ہوا ہے؟ میں نے اتنا ہی کہا تھا کہ مولوی صاحب بھڑک اٹھے اور کہنے لگے شاید یہ کل والا مرزائی ہے اسے مسجد سے باہر نکال دو۔میں نے بہت جتن کئے۔کلمہ شریف پڑھا اور کہا کہ میں نے چند باتیں کرتی ہیں۔لیکن لوگوں نے دھکے دے کر مجھے مسجد سے نکال کر ہی دم لیا۔چند دن بعد میں پل پر ڈیوٹی پر تھا کہ مولوی صاحب گزرے میں نے کھڑے ہو کر خوش آمدید کہا۔اور از راہ شرافت کرسی پیش کی۔مولوی صاحب اپنے کردار کی وجہ سے خائف تھے۔ان کا رنگ فق ہو گیا۔مبادا میں اپنے ماتحتوں کے ذریعہ پٹواؤں