اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 33 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 33

۳۳ کی۔ماشکن نے بتایا گذشتہ رات مرحومہ کو سجدہ میں روروکر یہ دعا کرتے میں نے سُنا کہ اے خدا تعالیٰ ! میرے خاوند کا رویہ میرے بھائی کے ساتھ سخت کلامی کا اچھا نہیں۔تو اب بھی قادر ہے۔اگر میرا بھیرہ جانا اچھا نہیں ہے تو بہتری کردے ایک دن قبل مرحومہ کو یہ خواب بھی آیا تھا کہ فرشتہ اس کی ڈولی لے جا رہا ہے۔اس طرح حضرت خلیفہ اول کی نکاح میں بیان کردہ بات پوری ہوئی۔آپ نے اسکے خاوند کے ہاتھ پار چات حضرت خلیفہ اول کی خدمت میں بھجوائے تا مقبرہ بہشتی کے فنڈ میں شمار کئے جائیں۔بقیہ سامان جہیز۔آپ جب قادیان آئے تو حضرت خلیفہ اول کی خدمت میں پیش کیا۔حضور حیران ہوئے اور فرمایا کہ مرحومہ کے خاوند نے ہمیں ایسی کوئی اشیاء نہیں دیں۔بابو صاحب کے خط لکھنے پر اس نے جواب دیا کہ یہ اشیاء ایک کنسٹیل کے پاس رکھی ہیں جو اب رخصت پر ہے۔بالآخر یہ اشیاء اس نے مرکز میں نہ پہنچائیں دوبارہ اس کی شادی نہ ہو سکی۔اور وہ سلسلہ احمدیہ سے بھی بے تعلق ہو گیا۔چھوٹی ہمشیرہ محترمہ ریشم بی بی صاحبہ کے رشتہ کے لئے بھی آپ نے حضرت خلیفہ اول کی خدمت میں عرض کیا تو آپ نے میاں مہرالدین صاحب سکنہ خلجیاں مغلاں ضلع سیالکوٹ کے لئے تحریک فرمائی۔قادیان میں انہیں دیکھنے پر ان کی عمر زیادہ پا کر جب کہ آپ کی ہمشیرہ تیرہ چودہ سال کی ہونگی۔بابو صاحب نے عرض کیا کہ ان کی عمر زیادہ ہے۔آپ کے اہل بیت کو آپ کے جواب کا علم ہوا تو انہوں نے کہا کہ بشیر کے ابا ! آپ سنا کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ کی عمر بہت چھوٹی تھی۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ سے شادی کی تھی۔بالفرض میری وفات واقع ہو جائے۔اور آپ کو صاحب اولاد ہونے کے باوجود شادی کرنی پڑے اس پر بھی لوگ اعتراض کریں گے۔اس پر بابو صاحب نے حضور کی خدمت میں عرض کر دیا کہ مجھے یہ رشتہ منظور ہے۔لاہور واپس جانے پر آپ کو علم ہوا کہ موصوف کا سلوک اپنی پہلی بیوی سے اچھا نہیں تھا۔اس لئے جماعت ان کی سفارش نہیں کرے گی۔چنانچہ آپ نے نکاح روکنے کے لئے حضور کی خدمت میں تار ارسال کیا۔میاں مہرالدین صاحب کے خطوط حضور کی خدمت میں نیک سلوک کی یقین دہانی کے بارے میں آتے رہے۔حضور نے قادیان سے تین احباب حضرت ڈاکٹر سید۔