اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 32 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 32

۳۲ یہ قصہ عرض کیا۔فوراً فرمایا۔آپ میرے مُرید ہیں۔ابھی جا کر اُسے کہہ دیں کہ ہم تمہیں کوئی بھی رشتہ نہیں دیتے۔آپ نے اپنی اہلیہ صاحبہ کو بھی اطلاع کر دی جو حضرت اماں جان کے پاس قیام رکھتی تھیں۔چنانچہ دونوں میاں بیوی کی ڈھارس بندھ گئی۔حضرت خلیفہ اول کی ناراضگی کا علم پا کر اس شخص کی ہمشیرہ محترمہ اہل بیت حضرت خلیفہ اول کے پاس پہنچیں اور کہا ہم پہلا رشتہ ہی قبول کرتے ہیں۔ہم بُھول گئے۔حضرت مولوی صاحب ہمیں معاف کر دیں۔ان کی طرف سے اہل بیت حضرت مولوی صاحب نے بہت منت سماجت کی حتی کہ رات بارہ ایک بجے آپ نے معافی دے دی اور بعد نماز فجر نکاح پڑھنے کا وعدہ فرمایا۔اور اسی وقت اس شخص نے بابو صاحب کو بھی اطلاع دے دی۔اور قبل فجر آپ نے دار اسی میں اپنی اہلیہ کو بھی مطلع کر دیا۔حضرت خلیفہ اول نے خطبہ نکاح میں دردناک زبان میں فرمایا کہ اس رشتہ کے بارہ میں ہمیں بہت تکلیف ہوئی ہے۔ہمارا دوست فقیر علی سندھ سے آیا ہے۔بہت نیک اور سادہ ہے۔انہیں اور ان کے گھر والوں کو بہت تکلیف ہوئی ہے۔میں نے بہت دُعا کی ہے۔یا تو اچھی اصلاح ہو جائے گی یا طرفین میں سے کسی کو خدا خود سنبھال لے گا۔چنانچہ حضرت خلیفہ اول کے گھر میں رخصتانہ ہو ا۔چند دن ہمشیرہ مع خاوند حضرت خلیفہ اول کے ہاں مقیم رہیں۔اہلیہ بابو صاحب کا قیام دار اسیح میں اور بابو صاحب کا مہمان خانہ میں تھا۔دوبارہ رخصتی (مکلا وہ) لینے کے لئے یہ صاحب سکھر آئے اور بابو صاحب نے میاں بیوی کے لئے پار چات بنوائے لیکن ان صاحب نے بہت بد دماغی دکھائی مفتی کہ ایک روز با بوصاحب سے سخت کلامی کی۔اور آپ کی ہمشیرہ اس رویہ کی وجہ سے سخت مغموم ہوئیں بابو صاحب رات بھر ڈیوٹی دے کر صبح گھر آئے تو دیکھا ہمشیرہ کو رات سے ہیضہ ہو چکا ہے۔ڈاکٹر نے کہا حالت خطر ناک ہے۔اور شراب کی ایک خوراک پلانا چاہی۔لیکن ہمشیرہ نے جو آپ کی اہلیہ صاحبہ اور دوسری بہن کی طرح بہت دعا گو اور نوافل پڑھنے والی تھیں شراب پینے سے انکار کر دیا اور جان بحق ہو گئیں۔چونکہ سکھر میں اور کوئی احمدی نہ تھا اس لئے بابو صاحب اور مرحومہ کے خاوند دونوں نے ہی ان کا جنازہ پڑھا اور دفن کیا۔بابو صاحب نے حضرت خلیفہ اول کی خدمت میں بذریعہ تار اطلاع دے کر دعا کی درخواست