اصحاب احمد (جلد 3)

by Other Authors

Page 256 of 308

اصحاب احمد (جلد 3) — Page 256

۲۵۶ سے ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب آئے ہوئے ہیں۔دال نہ گلتی دیکھ کر انہوں نے اپنے ایک خاص مدد گار کو بذریعہ تار بلوایا۔نیز ثالث موصوف پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی ہے۔- سو (۸): ۱۹۱۸-۱۹ ء اس وقت شاخہائے صدرانجمن احمدیہ کی تعداد ایک اٹھانوے تھی۔جماعت شملہ کے سیکرٹری ''بابو برکت علی صاحب ہی تھے۔اور اس سال ایک ہزار تریسٹھ روپے سوا چھ آنے وہاں کا چندہ مرکز میں موصول ہوا تھا۔( رپورٹ ص ۵۹،۵۷) ( ۹ ) : جماعتِ شملہ ان جماعتوں میں سے تھی جو ادائے چندہ کے لحاظ سے اول درجہ کی تھیں۔یعنی ان کا چندہ میزانیہ کے برابر یا اس سے بڑھ کر وصول ہوا تھا۔۲۵ (۱۰) مارچ ۱۹۲۹ء میں جماعت احمد یہ دہلی کا آٹھواں سالانہ جلسہ منعقد ہوا۔غیر احمدی حکیم امجد علی صاحب آنریری مجسٹریٹ ورئیس دہلی۔اور مولوی محمد شفیع صاحب داؤدی رکن لیجسلیٹو اسمبلی دہلی۔اور احمدی بزرگان بابو اعجاز حسین صاحب امیر جماعت دہلی۔چوہدری نعمت خاں صاحب سینئر سب بیج دہلی۔بابوا کبر علی صاحب انسپکٹر آف ورکس دہلی ( بعدۂ مہاجر قادیان) اور خان صاحب منشی برکت علی صاحب امیر جماعت شملہ اور کرنل اوصاف علی خاں صاحب سی، آئی ، ای سابق کمانڈر انچیف نابھہ سٹیٹ ( برادر نسبتی حضرت نواب محمد علی خاں صاحب نے مختلف اجلاسوں کی صدارت کی۔علمائے سلسلہ حضرت صوفی غلام محمد صاحب (سابق مجاہد ماریشس ) حضرت شیخ غلام احمد صاحب واعظ۔حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی اور حضرت مولوی عبدالرحیم صاحب نیز (سابق مجاہد برطانیہ عظمی الفضل ۱۵ جولائی ۱۹۱۵ء (ص۴) ۲۰ جولائی (ص ۵،۴) ۲۹ جولائی (ص ۵) ۱۷ اگست (ص ۶) بحمد للہ ثالث نے فیصلہ کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے صریح طور پر نبی ہونے کا اقرار کیا ہے۔(الفضل ۱۹ دسمبر ص ۲) یہ مباحثہ شملہ کتابی صورت میں شائع ہوا۔اور بحمد للہ مکرم سعدی صاحب کے برادر کو اللہ تعالیٰ نے بیعت خلافت کی توفیق دی۔اور اب وہ بہشتی مقبرہ میں مدفون ہیں یعنی محترم حکیم محمد حسین صاحب المعروف بہ مرہم عیسی علیہ السلام۔