اصحاب احمد (جلد 3) — Page 255
۲۵۵ زیاده۔۔۔چندہ دیا تعداد ممبران کے لحاظ سے یہ چندہ بہ نسبت دیگر جگہ کی انجمنوں کے زیادہ ہے۔مفتی محمد صادق صاحب ناظر صدر انجمن احمدیہ نے اس سال حساب کی کتاب کو چیک کیا اور قابل اطمینان پایا۔چندہ مقامی ضروریات ۲۳۲ روپے ۱ آنه ۹ پائی خرچ ہوا۔تعداد ممبران جس سے چندہ وصول ہوا ۵۸ ہے۔جن میں سے ۴۵ احمدی اور ۱۳ غیر احمدی ہیں۔ہر اتوار کو جلسہ ہوتا ہے۔یعنی سال زیر رپورٹ میں ۳۸ جلسے اور ۲۳ تقریریں ہوئیں۔“ (ص۹۹) شمله دو تین انجمنیں ایسی ہیں جن کا چندہ سال گذشتہ میں ایک ہزار سے کم تھا۔مگر اس سال ایک ہزار سے زیادہ ہوا۔یعنی مردان۔لائکپور۔شملہ کا چندہ / ۱۱۹۱ روپے ہے جو سال گذشتہ سے -/ ۳۶۱ روپے بڑھ کر ہے۔ایک ہزار سے زیادہ چندہ دینے والی انجمنوں کی فہرست میں گوشملہ کا نام سب سے آخر ہے۔مگر شملہ کے احمدی احباب کی تعداد کے لحاظ سے میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ جو نسبت احباب شملہ کے چندے کو اُن کی آمدنیوں سے ہے وہ دوسری سب جماعتوں سے بڑھ کر ہے۔خود اس جماعت کے سیکرٹری منشی برکت علی صاحب اس کام میں ایک قابل رشک نمونہ ہیں جو ہمیشہ چندہ دینے کے لئے کسی نہ کسی موقعہ کی تلاش میں لگے رہتے ہیں۔“ (ص۸۶) (۷): خاں صاحب کی طرف سے شائع شدہ روئیدادوں میں بیان ہوا ہے کہ مکرم میاں محمد سعید صاحب سعدی لاہور کا اپنے غیر مبائع بھائی سے بمقام شملہ مباحثہ ہوا۔سعدی صاحب کو جماعت کی امداد کے لئے حضرت خلیفہ ثانی رضی اللہ عنہ نے بھجوایا تھا۔شیخ محمد عمر صاحب وکیل اس مباحثہ میں ثالث تھے۔ان کے فیصلہ دینے سے قبل مکرم با بو فضل محمد خاں صاحب ملازم دفتر ڈائرکٹر میڈیکل سروسز نے خلافت ثانیہ کی بیعت کر لی۔بعدہ مکرم با بو عبد الواحد صاحب نے بھی بیعت کی۔اور ایک اور صاحب بھی متاثر ہوئے ہیں۔غیر مبائع حلقہ میں اس سے فکر پیدا ہوا۔ایک ہفتہ