اصحاب احمد (جلد 3) — Page 204
۲۰۴ شملہ بھی شامل تھا۔اور وہ کئی مواقع پر شملہ آکر بھی لیکچر دیا کرتے تھے۔اس وقت عام طور پر جماعت میں امیر اور پریذیڈنٹ نہیں ہوتے تھے۔اور سوائے سیکرٹری کے اور کوئی عہدہ دار نہ ہوتا تھا۔بلکہ عموماً سیکرٹری ہی سب کاموں کا ذمہ دار ہوتا تھا۔چنانچہ شملہ میں اُن دنوں میں سیکرٹری تھا۔ان دوروں میں ان عمائدین کی دو خصوصیتیں تھیں۔اوّل یہ کہ ان کے لیکچر احمدیت کے متعلق نہیں ہوتے تھے بلکہ عام مضامین پر ہوتے تھے اور عام مضامین میں بھی اگر کوئی موقعہ احمدیت کے ذکر کا ہوتا تھا تو وہ اس کے ذکر سے بچتے تھے۔خواجہ صاحب مرحوم کہا کرتے تھے کہ میں احمدیت کا نام اس لئے نہیں لیتا کہ احمدیت کے نام سے لوگ آتے نہیں۔میں عام مضامین سُنا کر سفر مینا کا کام کرتا ہوں۔یعنی لوگوں کو احمدیت کے لئے تیار کرتا ہوں۔تاکہ بعد میں جو لوگ احمدیت کی تبلیغ کریں ان کو کامیابی حاصل کرنے میں آسانی ہو۔لیکن میں ہمیشہ کہا کرتا تھا کہ دین کے معاملہ میں ایسی پالیسی کی ضرورت نہیں۔اور نہ ہم ایسے لیکچر چاہتے ہیں۔جن میں احمدیت کا ذکر نہ ہو۔علاوہ ازیں ہم نے دیکھا ہے کہ جہاں جہاں سفر مینا کا کام کیا ہے۔وہاں کوئی بھی کامیابی نہیں ہوئی۔آخر بڑی مشکل سے یہ لوگ اس بات پر رضا مند ہوئے اور انہوں نے احمدیت پر بھی ایک دو لیکچر دیئے۔ایک دفعہ ان کے ساتھ حضرت مولوی غلام رسول صاحب را جیکی بھی گئے ہوئے تھے۔ان دنوں وہ لاہور میں جماعت احمدیہ کے امام الصلوۃ ہوا کرتے تھے۔چنانچہ ان کا بھی ایک لیکچر ہوا۔انہوں نے بڑے زور شور سے احمدیت کی تبلیغ کی نتیجہ وہی ہوا جس کا غیر مبایعین کو ڈر تھا۔یعنی لوگ کم آئے اور جو آئے ان میں سے بعض نے ان لیکچروں کو پسند کیا۔لیکن بعض نے اظہار نا راضگی کیا۔خواجہ صاحب کو یہ بات بہت ناگوار گذری اور ان کی یہ کوشش رہی کہ کوئی ایسا مضمون بیان کیا جائے جس سے ہندوؤں اور مسلمانوں دونوں کو دلچسپی ہو۔چنانچہ جس دن یہ سارے عمائد قیام کے بعد واپس لاہور جارہے تھے۔اس دن بھی راستے میں خواجہ صاحب نے چاہا کہ پھر واپس جا کر ایک دن کسی خاص مضمون پر لیکچر دیں۔اور حضرت مولوی راجیکی صاحب کو بھی ترغیب دی۔مگر انہوں نے کہا جانے دیں اب واپسی کے ارادہ سے چل پڑے ہیں پھر کبھی دیکھا جائے گا۔:Sappers and Miners: سرنگ لگانے اور کھودنے کا کام کرنے والی پلٹن