اصحاب احمد (جلد 3) — Page 203
۲۰۳ اس قسم کا سوال اٹھانا غلطی ہے۔اور میں اسے گناہ سمجھتا ہوں اور کوئی جواب نہ دیا۔انجمن انصار اللہ کا قیام ایک واقعہ انہی دنوں میں یہ پیش آیا کہ حضرت میاں صاحب کو تبلیغ کا شوق تھا اور تبلیغ کی غرض سے آپ نے حضرت خلیفہ اول کی منظوری سے انجمن انصار اللہ بنائی اور خود حضرت خلیفہ اول بھی اس کے ممبر بنے۔اس کے ممبر بننے کی سب سے ضروری شرط یہ تھی کہ درخواست دینے سے پیشتر کم از کم ایک ہفتہ متواتر استخارہ کیا جائے۔میری خواہش تھی۔مگر محض استخارہ نہ کرنے کی وجہ سے دیر تک ممبر بننے سے محروم رہا۔آخر میں نے ایک دفعہ بڑی ہمت اور حوصلہ کر کے سات دن استخارہ کیا اور شامل انجمن ہو گیا۔لاہوری دوستوں کے گمنام ٹریکٹوں اور الزاموں کے متعلق جو انصار اللہ نے جواب دیا اس میں میرے دستخط بھی ہیں۔اس بارے میں الفضل میں زیر عنوان انصار اللہ یوں درج ہے: اللہ تعالیٰ کے فضل سے ممبران انجمن انصار اللہ اپنا خوب کام کر رہے ہیں پچھلے میں دنوں بعض ممبروں کی کوشش سے چھ آدمی احمد یہ جماعت میں داخل ہوئے منشی برکت علی صاحب شملہ اور ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب قادیان۔میاں وزیر محمد صاحب اور میاں خدا بخش صاحب لاہور سے جماعت انصار اللہ میں نئے داخل ہوئے ہیں۔اللہ تعالیٰ انہیں بھی اسلام اور سلسلہ احمدیہ کی خدمت کا بڑھ بڑھ کر موقعہ دے۔احباب اپنی فہرستوں میں ان کا نام لکھ لیں۔فیروز پور کے حلقہ کے سیکرٹری صاحب منشی 66 فرزند علی صاحب کی رپورٹ آئی ہے۔آپ تبلیغ میں مشغول ہیں۔1۔“ خواجہ صاحب وغیرہ کے دورے حضرت خلیفہ اول کے آخری ایام میں بعض عمائد غیر مبایعین مثلاً خواجہ کمال الدین صاحب مولوی محمد علی صاحب مولوی صدرالدین صاحب۔مرزا یعقوب بیگ صاحب وغیرہ نے بعض بڑے بڑے شہروں میں پھر کر لیکچر دینے شروع کئے تھے۔ان شہروں میں