اصحاب احمد (جلد 3) — Page 194
۱۹۴ (۱۲) تعمیر مارہ کے خرچ کا اندازہ غالباً بائیس ہزار روپیہ تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ دوست سوسو روپیہ کے حصے لیں۔جو دوست سو روپیہ چندہ دیں گے ان کے نام مینارہ پر کندہ کرائیں گے۔چنانچہ مجھے یہ فخر حاصل ہے کہ میں نے اپنی طرف سے سور و پہیہ چندہ دیا اور اپنی بیوی کی طرف سے بھی سور و پیہ چندہ دیا۔چنانچہ ہم دونوں کے نام مینارہ اسی پر کندہ ہیں۔(۱۳): ۱۹۰۲ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ جس طرح بقیه حاشیه: شنکر د اس کا مکان ہے جو اس قدر اونچا ہے کہ اس کی چھت پر چڑھنے سے ہمارے گھر میں نظر پڑتی ہے تو کیا ہم اس وجہ سے اس کے گرانے کا مطالبہ کریں۔پردہ کا انتظام ہمیں خود کرنا چاہیئے۔ہمارا پردہ زیادہ ہے۔تو کیا ہم خود بے پردگی برداشت کریں گے اور ایسا کام کریں گے جس سے دوسروں کو بھی نقصان پہنچے اور ہمیں بھی۔حضرت حافظ روشن علی صاحب جو اس ملاقات کے وقت موجود تھے بیان کرتے ہیں کہ اس ملاقات کے وقت شکایت کنندہ بھی ہمراہ تھے فرمایا: دو ہمیں ان غیر مسلموں سے ہمدردری ہے ان کا ہم علاج کرتے ہیں۔کبھی ان کے مذہبی معاملات میں نقیض نہیں کی۔یہ بڈھا مل بیٹھا ہے اس سے پوچھ لیں کہ بچپن سے آج تک اسے فائدہ پہنچانے کا موقعہ مجھے ملا ہو اور میں نے فائدہ پہنچانے میں کوئی کمی کی ہو اور پھر اسی سے پوچھیں کہ کبھی مجھے تکلیف دینے کا اسے کوئی موقعہ ملا ہو اور اس نے کسر چھوڑی ہو۔“ بڑھامل صاحب شرم کے مارے سر زانوؤں میں دئے ہوئے تھے۔چہرہ کا رنگ سفید پڑ گیا تھا۔اور ایک لفظ بھی نہ بول سکے۔مخالفت کرنے والے ناکام رہے۔ڈپٹی کمشنر نے فیصلہ کیا کہ فی الحال کوئی امرایسا نہیں ہے کہ جس سے نقص امن کا احتمال ہو۔جن لوگوں کو عذر ہے وہ بذریعہ عدالت دیوانی اپنی دادرسی کر سکتے ہیں۔اینجانب فی الحال دست اندازی نہیں کرتے ہے۔“ اللہ تعالیٰ کی قدرت کہ اس کٹر آریہ سماج کے بیٹے نے جو ابھی زندہ ہیں مقامی آریہ سماج کے خلاف ایک طویل بیان دیا۔اور کہا کہ اسے شائع کرنے کی میری طرف سے اجازت ہے اور اسے اصحاب احمد جلد نہم میں شائع کیا گیا۔