اصحاب احمد (جلد 3) — Page 190
۱۹۰ پڑھ حضور موقعہ عطا فرما دیتے بعض اردو کے اشعار اور بعض پنجابی زبان میں منظوم کلام سناتے۔ایک روز موسم گرما میں حضور چھت پر شاہ نشین پر رونق افروز تھے۔اس بات پر گفتگو شروع ہوگئی کہ امام کے پیچھے الحمد جائز ہے یا نہیں۔حضرت مولوی نورالدین صاحب حضرت مولوی عبد الکریم صاحب اور مولوی محمد احسن صاحب مرحوم بھی مجلس میں موجود تھے۔مخالف و موافق آراء کا اظہار کیا جا رہا تھا۔کوئی کہہ رہا تھا کہ ہر حالت میں الحمد کا پڑھنا ضروری ہے اور اگر امام اونچی آواز سے پڑھ رہا ہو تو مقتدی ساتھ ساتھ آہستہ آہستہ پڑھتا رہے۔یا وقفہ میں لے۔اور کوئی کہتا تھا کہ جب امام اونچی آواز سے پڑھ رہا ہو تو خاموش رہنا چاہیئے۔جہاں تک مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ اگر اس طرح کر لیا جائے کہ جب امام بلند آواز سے الحمد پڑھے تو مقتدی خاموشی سے سختا ر ہے۔اور جب ظہر اور عصر کی نمازوں میں خاموشی سے پڑھے تو مقتدی بھی اپنے طور پر آہستہ پڑھ لے۔اس طرح دونوں باتوں پر عمل ہو جائے گا۔(۵): حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کا دستور تھا کہ آپ اکثر ظہر اور مغرب کے بعد مسجد میں ہی بیٹھ جاتے اور دوستوں سے گفتگو فرماتے۔ایک دفعہ مغرب کے بعد آپ مسجد میں ہی تشریف فرما تھے کہ کسی نے عرض کیا۔چار پانچ آریہ ملاقات کے لئے آئے ہیں۔آپ نے فرمایا انہیں بلا ؤ۔یہ لوگ ہوشیار پور کے رہنے والے تھے۔اور : فاتحہ خلف الامام پڑھنے کے بارہ میں سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا معروف اور عمومی فتویٰ یہی ہے کہ جہری و تری ہر دو قسم کی نمازوں میں مقتدی امام کے پیچھے سورۃ فاتحہ پڑھے گا۔اور اسی پر جماعت کا تعامل ہے۔چنانچہ سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”ہمارا مذھب تو یہی ہے کہ لاصلوۃ الا بفاتحۃ الکتاب۔آدمی امام کے پیچھے ہو یا منفرد ہو ہر حالت میں اس کو چاہیئے کہ سورۃ فاتحہ پڑھے۔مگر امام کو نہ چاہیئے کہ جلدی جلدی سورۃ فاتحہ پڑھے بلکہ ٹھہر ٹھہر کر پڑھے تا کہ مقتدی سن بھی لے اور اپنا پڑھ بھی لے یا ہر آیت کے بعد امام اتنا ٹھہر جائے کہ مقتدی بھی اس آیت کو پڑھ لے۔بہر حال مقتدی کو یہ موقعہ دینا چاہیئے کہ وہ سن بھی لے اور اپنا پڑھ بھی لے۔سورۃ فاتحہ کا پڑھنا ضروری ہے۔کیونکہ وہ ام الکتاب ہے۔“