اصحاب احمد (جلد 3) — Page 162
۱۶۲ قطعہ صحابہ " میں تدفین عمل میں آئی۔" حضرت شیخ صاحب نہایت مخلص نیک بے ضرر اور دعا گو بزرگ تھے ۱۹۰۵ء میں بیعت سے مشرف ہوئے۔پانچ لڑکے اور چار لڑکیاں یادگار چھوڑے ہیں جن میں سے ایک مکرم محمد احمد صاحب واقف زندگی وکالت تبشیر کے کارکن ہیں اور دوسرے مکرم لئیق احمد صاحب طاہر انگلستان میں مبلغ اسلام کے طور پر کام کر رہے ہیں۔احباب دعا فرما دیں کہ اللہ تعالے حضرت شیخ صاحب کو درجات عالیہ عطا فرمائے۔اور جملہ لواحقین کو صبر جمیل کی توفیق بخشے۔آمین۔“ حضرت شیخ فضل احمد صاحب بٹالوی رضی اللہ عنہ کے زیر عنوان آپ کے صاحبزادہ مکرم ملک محمد احمد صاحب کی طرف سے ذیل کے حالات زندگی بسلسلہ تذکرہ اصحاب حصہ مسیح موعود علیہ السلام شائع ہوئے: ” میرے والد حضرت شیخ فضل احمد صاحب بٹالوی جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ میں سے تھے بعارضہ بندش پیشاب جولائی کے پہلے ہفتہ میں بیمار ہوئے۔قریبا دو ماہ میوہسپتال لاہور میں زیر علاج رہنے کے بعد ۳۰ اگست بروز جمعہ صبح سات بجے وفات پاگئے۔انالله واناالیه راجعون۔اسی روز آپ کی نماز جنازہ بعد نماز جمعه محترم قاضی محمد نذیر صاحب لانکپوری نے پڑھائی اور بہشتی مقبرہ کے قطعہ خاص صحابہ میں آپ الفضل یکم ستمبر ۶۵ کتبہ کی عبارت سفر بہ سطر درج ذیل ہے: مزار شیخ فضل احمد صاحب بٹالوی ربوه ولادت ۱۸۸۴ء بیعت ۱۹۰۴ء وفات ۳۰/۸/۱۹۶۸ عمر ۸۴ سال نمبر وصیت ۵۹۷