اصحاب احمد (جلد 3) — Page 161
۱۶۱ انتقال پر ملال آپ کے انتقال کے متعلق مؤقر الفضل رقمطراز ہے: حضرت شیخ فضل احمد صاحب بٹالوی وفات پاگئے۔انا للہ وانا اليه راجعون۔ربوہ ۳۱ ظہور نہایت افسوس اور رنج کے ساتھ لکھا جاتا ہے کہ حضرت شیخ فضل احمد صاحب بٹالوی جو کہ اصحاب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام میں سے تھے۔کل صبح سات بجے بھمر قریباً پچاسی ۸۵ سال لاہور میں وفات پاگئے۔انا لله وانا اليه راجعون۔جنازه ربوہ لایا گیا۔بعد نماز جمعہ محترم مولانا قاضی محمد نذیر صاحب لائکپوری امیر مقامی نے نماز جنازہ پڑھائی جس میں کثیر تعداد میں احباب شامل ہوئے بعد ازاں مقبرہ بہشتی کے بقیہ حاشیہ : جائیداد کے ساتھ ایسے ہی گہرے تعلقات تھے۔حضرت مفتی محمد صادق صاحب سے بھی تھے۔آپ جب امریکہ اعلائے کلمۃ اللہ کے لئے تشریف لے گئے تو نامہ صادق میں بعض احباب کے خطوط کا ذکر تے ہوئے تحریر فرماتے ہیں: (۷) : با بو شیخ فضل احمد صاحب نوشہرہ۔آپ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ہے جس کے لئے آپ کو اور بھی شکر گذار ہونا ضروری ہے۔یہ بات میں نے کسی خاص ذوق اور نمایاں فرق کو مد نظر رکھ کر لکھا ہے۔(۸) : جماعت سے حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے خدمت دین کے لئے مطالبہ وقف پر آپ نے وقف زندگی کی۔ایسے احباب کی معیت میں آپ کا نام الفضل ۲۰ مئی ۱۹۴۴ء (ص ۵ کالم ۳) میں مرقوم ہے۔(۹) آپ اپنے اوپر بہت سے افضال الہی کا ذکر کرتے ہیں جو اس کتاب میں متفرق طور پر درج ہو چکے ہیں۔ان میں یہ بھی بیان ہے کہ حضرت خلیفہ ثانی کے زمانہ میں آپ پر بہت اللہ کے فضل ہوئے۔مثلاً انتخاب خلیفہ میں رائے دینے کا۔چنانچہ آپ انتخاب خلافت ثالثہ میں شامل ہوئے۔