اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 48 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 48

48 جائے گی۔لیکن مناسب ہے کہ اس اخفاء کو صرف اسی وقت تک رکھیں کہ جب تک کوئی اشد مصلحت در پیش ہو۔کیونکہ اخفا میں ایک قسم کا ضعف ہے اور نیز اظہار سے گویا فعلاً نصیحت للخلق ہے۔آپ کے اظہار سے ایک گروہ کو فائدہ دین پہنچتا ہے۔اور رغبت الی الخیر پیدا ہوتی ہے خدائے تعالیٰ ہر ایک کام میں مددگار ہو۔کہ بغیر اس کی مدد کے انسانی طاقتیں بیچ ہیں۔والسلام ☆ خاکسار۔مرزا غلام احمد حضرت کی تحریک پر اعلان بیعت ازالہ اوہام کی تصنیف کے وقت حضور نے لکھا کہ مجھ کو اس طرح آپ کا پوشیدہ رکھنا نا مناسب معلوم ہوتا ہے میں آپ کے حالات ازالہ اوہام میں درج کرنا چاہتا ہوں آپ اپنے حالات لکھ کر بھیج دیں۔اب ۱۸۹۱ء میں آپ کا کورٹ کھل چکا تھا اور آپ نے جو کہ مومنانہ شجاعت سے حصہ وافر رکھتے تھے ضعف ایمان والی صورت کو اپنے لئے پسند نہ کیا۔اور حضور کی تحریک پر آمنا وصدقنا کہتے ہوئے حالات تحریر کر کے بھیج دیئے جو ازالہ اوہام میں درج ہوئے۔اس طرح آپ کی بیعت کا اعلان ہو گیا۔اس کتاب میں درج ذیل کے حالات مرقوم ہیں: ابتدا میں گو میں آپ کی نسبت نیک ظن ہی تھا لیکن صرف اس قدر کہ آپ اور علماء اور مشائخ ظاہری کی طرح مسلمانوں کے تفرقہ کے موید نہیں ہیں بلکہ مخالفان اسلام کے مقابل پر کھڑے ہیں مگر الہامات کے بارے میں مجھ کو نہ اقرار تھا اور نہ انکار۔پھر جب میں معاصی سے بہت تنگ آیا اور ان پر غالب نہ ہو سکا تو میں نے سوچا کہ آپ نے بڑے دعوے کئے ہیں یہ سب جھوٹے نہیں ہو سکتے تب میں نے بطور آزمائش آپ کی طرف خط و کتابت شروع کی جس سے مجھ کو تسکین ہوتی رہی اور جب قریباً اگست میں آپ سے لدھیانہ ملنے گیا تو اس وقت میری تسکین خوب ہوگئی اور آپ کو ایک باخدا بزرگ پایا۔اور بقیہ شکوک کا بعد کی خط و کتابت میں میرے دل سے بکتی دھویا گیا۔اور جب مجھے یہ اطمینان دی گئی کہ ایک ایسا شیعہ جو خلفائے ثلثہ کی کسر شان نہ کرے سلسلہ بیعت میں داخل ہو سکتا ہے تب میں نے آپ سے بیعت کر لی۔اب میں اپنے آپ کو نسبتاً بہت اچھا پاتا ہوں اور آپ گواہ رہیں کہ میں نے تمام گناہوں سے آئندہ کے مکتوبات نمبر ۶- اختلافات کے باعث یہاں مکتوب الحکم جلد ۵ نمبر ۲ پرچہ ۷ ارجنوری ۱۹۰۱ ء سے نقل کیا گیا ہے۔