اصحاب احمد (جلد 2) — Page 26
26 جائیگا۔اس کے بعد نواب صاحب نے کہا کہ آئیے اندر بیٹھیں۔چنانچہ حضرت صاحب اور نواب صاحب کو ٹھی کے اندر چلے گئے اور قریباً آدھ گھنٹہ اندر رہے۔چونکہ کوئی آدمی ساتھ نہ تھا اس لئے ہمیں معلوم نہیں ہوا کہ اندر کیا کیا باتیں ہوئیں۔اس کے بعد حضرت صاحب مع سب لوگوں کے پیدل ہی جامع مسجد کی طرف چلے آئے اور نواب صاحب بھی سیر کے لئے باہر چلے گئے۔مسجد میں پہنچ کر حضرت صاحب نے فرمایا کہ سب لوگ پہلے وضو کریں اور پھر دورکعت نماز پڑھ کر نواب صاحب کی صحت کے واسطے دُعا کریں کیونکہ یہ تمہارے شہر کے والی ہیں اور ہم بھی دُعا کرتے ہیں۔غرض حضرت اقدس نے مع سب لوگوں کے دعا کی اور پھر اس کے بعد فوراً ہی لدھیانہ واپس تشریف لے آئے۔اور باوجود اصرار کے مالیر کوٹلہ میں نہ ٹھہرے۔(الف) مکرم میاں محمد عبد الرحمن خان صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ نواب ابراہیم علی خاں صاحب کی والدہ محترمہ فضیلت بیگم صاحبہ موضع جھل ریاست پیالہ کے ایک راجپوت خاندان سے تھیں۔بہت منتظم خاتون تھیں چنانچہ نواب غلام محمد خاں کے بالمقابل اپنے بیٹے کے الیکشن میں سب انتظام انہی کا تھا۔نواب صاحب اپنی بیوی اور بڑے بچہ مہر محمد خاں کی وفات کے صدمہ سے مختل الدماغ ہو گئے تھے اور ۲۳ اگست ۱۹۰۸ء کو وفات تک اسی عارضہ میں متبلا رہے۔ان کی شادی والد صاحب کی تیسری والدہ کی اکلوتی بیٹی نواب بیگم سے ہوئی تھی۔تیسری والدہ اور والدہ نواب ابراہیم علی خاں سگی بہنیں تھیں۔میرے نزدیک اللہ تعالیٰ نے حضور کو ان کی عدم شفایابی کا علم دیدیا ہوگا تبھی حضور نے باوجود اصرار کئے جانے کے ٹھہر نا مناسب نہ جانا۔حضور نے جامع مسجد میں دعا کی تھی اور جامع مسجد شہر میں ہے اور مجھے حضرت میر عنایت علی صاحب نے بتایا تھا کہ حضور کی ملاقات نواب صاحب سے ” سکندر منزل میں ہوئی تھی۔یہ کوٹھی اب بھی موجود ہے اور نواب سکندر علی خاں کی تعمیر کردہ ہے۔خاندان یا ریاست میں ایسا کوئی ریکارڈ یا ڈائری نہیں جس سے اس سفر کی تاریخ وغیرہ کا علم ہو سکے۔نواب احمد علی خاں صاحب مرحوم والئی مالیر کوٹلہ جو میرے خسر بھی تھے نواب ابراہیم علی خان صاحب کے صاحبزادہ تھے۔“ تذکرہ رؤسائے پنجاب میں نواب ابراہیم علی خاں صاحب کی وفات بعارضہ ہیضہ اگست ۱۹۰۸ ء میں ہونا مرقوم ہے۔(ب) حضرت مسیح موعود جب پہلی بارلد ہیانہ تشریف لے گئے تھے تب ہی مالیر کوٹلہ جانا ہوا تھا۔چنانچہ اس سے قبل کی روایت نمبر ۳۳۸لد ہیا نہ جانے کے متعلق بھی میر عنایت علی صاحب لد ہیا نوی کی ہے۔میر عباس علی صاحب لد ہیانوی کے نام مکتوبات کے اقتباسات و دیگر قرائن ذیل میں درج کر دیئے ہیں جن سے معلوم ہوسکتا ہے کہ حضور کب لد ہیا نہ اور مالیر کوٹلہ تشریف لے گئے تھے (۱) مکتوب نمبر ۹ میں حضوڑ نے سفر لد ہیانہ کے