اصحاب احمد (جلد 2) — Page 659
659 ہی زبان میں نہایت عاجزی کے ساتھ جیسے ایک ادنیٰ سے ادنی بندہ ہوتا ہے خدائے تعالیٰ کے حضور دعا کرو کہ اے رب العالمین ! تیرے احسانوں کا میں شکر نہیں کر سکتا۔تو نہایت رحیم وکریم ہے۔اور تیرے بے نہایت مجھ پر احسان ہیں۔میرے گناہ بخش تا میں ہلاک نہ ہو جاؤں۔میرے دل میں اپنی خالص محبت ڈال تا مجھے زندگی حاصل ہو اور میری پردہ پوشی فرما اور مجھ سے ایسے عمل کرا جن سے تو راضی ہو جائے۔میں تیرے وجہ کریم کے ساتھ اس بات سے پناہ مانگتا ہوں کہ تیرا غضب مجھ پر وارد ہو۔رحم فرما اور دنیا اور آخرت کی بلاؤں سے مجھے بچا کہ ہر ایک فضل و کرم تیرے ہی ہاتھ میں ہے۔آمین ثم آمین۔۱۴۵۴ حضرت اقدس اپنی توجہ خاص کی وجہ سے یہ پسند نہ کرتے تھے کہ کوئی ایسا امر رونما ہو کہ جو نواب صاحب کے لئے حضور کی دعاؤں میں حارج ہو چنانچہ حضور اس بارہ میں تحریر فرماتے ہیں : مجھے خیال آیا کہ ایک طرف تو میں نواب صاحب کے لئے پنج وقت نماز میں دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ان کی پریشانی دور کرے۔اور دوسری طرف ایسے لوگ بھی ہیں جن کی شکایت ہے کہ ہم اب اس حکم سے تباہ ہو جائیں گے تو ایسی صورت میں میری دعا کیا اثر کرے گی؟ گویا یہ سچ ہے کہ خدمت گار کم حوصلہ اور احسان فراموش ہوتے ہیں مگر بڑے لوگوں کے بڑے حو صلے ہوتے ہیں۔بعض وقت خدا تعالیٰ اس بات کی پرواہ نہیں رکھتا کہ کسی غریب نادار خدمت گار نے کوئی قصور کیا ہے اور یہ دیکھتا ہے کہ صاحب دولت نے کیوں ایسی حرکت کی کہ اس کی شگر گذاری کے برخلاف ہے اس لئے میں نے آپ کو ان کی دلی رنجش کے بُرے اثر سے بچانے کے لئے مولوی محمد علی صاحب کو لکھا تھا۔۔۔تاکوئی امرایسا نہ ہو کہ جو میری دعاؤں کی قبولیت میں حرج ڈالے اور حدیث شریف میں ہے ارحموا فی الارض ترحموا في السماء زمیں میں رحم کرو تا آسمان پر تم پر رحم ہو۔مشکل یہ ہے کہ امراء کے قواعد انتظام قائم کرنے کے لئے اور ہیں اور وہاں آسمان پر کچھ اور چاہتے م ہیں۔