اصحاب احمد (جلد 2) — Page 658
658 معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے بتو فیقہ تعالیٰ خود اپنی اصلاح پر آپ زور دے کر رئیسوں کے طریقوں اور چلنوں سے نفرت پیدا کر لی ہے۔۔۔ان سب باتوں سے بھی اپنے نور قلب سے فیصلہ کر کے انہوں نے علیحدگی اختیار کر لی ہے“۔انبیاء کی صحبت کونوا مع الصادقین کا بہترین نظارہ پیش کرتی ہے۔ان میں کمال درجہ کی شفقت پائی جاتی ہے جس سے طالبان حقیقت ان کی طرف کھچے چلے آتے ہیں۔اسی شفقت کا ذکر اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق لوكُنتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَا نُفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ کے الفاظ میں ۴۵۳ ror فرمایا ہے۔اور اسی کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وحی میں لَا تُصَعِرُ لِخَلْقِ اللَّهِ وَلَا تَسْتَمُ مِّنَ الناس میں فرمایا ہے۔شفقت کی یہی جاذبیت اصحاب کو مال ومنال۔اقارب و اوطان چھڑا کر ہجرت کرنے اور اپنا سب کچھ راہ مولا میں نچھاور کرنے پر مجبور کرتی ہے۔اس کا نظارہ ہم حضرت زید رضی اللہ عنہ کے حالات میں دیکھتے ہیں کہ انہوں نے آزاد ہونے کے بعد بصد تلاش و جستجو کر کے پہنچنے والے والد اور چچا کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا۔حضرت زید کی بصیرت حضور کا خلق عظیم مشاہدہ کر چکی تھی۔حضرت مسیح موعود کی اس شفقت کی جاذبیت کے سینکڑوں نظارے ہمارے سامنے آتے ہیں۔تربیت کی خاطر حضور نواب صاحب کو بار بار قادیان آکر لمبا عرصہ قیام کرنے کی تلقین فرماتے تھے۔تربیت کی طرف حضور کی توجہ کا ذکر نواب صاحب کے ملازموں اور خدام اور اہلیہ سے سلوک اور مدرسہ تعلیم الاسلام کے تعلق میں گذر چکا ہے۔اسی تربیت کے نتیجہ میں نور قلب کے مالک نواب صاحب نور علی نور ہو گئے۔اس عنوان کے تحت بعض تربیتی امثلہ کا ذکر کر دیا جاتا ہے۔اس سے اور سابقاً مذکورہ امور سے معلوم ہوگا کہ حضور کس کس رنگ میں نواب صاحب کی تربیت فرماتے تھے۔نواب صاحب کے خط بیعت کے جواب میں حضور فرماتے ہیں: اشتہار شرائط بیعت بھیجا جاتا ہے۔جہاں تک وسعت و طاقت ہو اس پر پابند ہوں اور کمزوری کو دور کرنے کے لئے خدا تعالیٰ سے مدد چاہتے رہیں۔اپنے رب کریم پھر فرمایا: سے مناجات خلوت کی مداومت رکھیں اور ہمیشہ طلب قوت کرتے رہیں“۔دعا بہت کرتے رہو اور عاجزی کو اپنی خصلت بناؤ۔جوصرف رسم اور عادت کے طور پر زبان سے دعا کی جاتی ہے یہ کچھ بھی چیز نہیں۔اس میں ہرگز زندگی کی رُوح نہیں۔جب دعا کرو تو بجر صلوٰۃ فریضہ کے یہ دستور رکھو کہ اپنی خلوت میں جاؤ اور اپنی