اصحاب احمد (جلد 2) — Page 652
652 بسم الله الرحمن الرحيم سیدی و مولای طبیب روحانی سلمکم اللہ تعالیٰ السلام علیکم۔میری ابتلائیں مجھے مجبور کرتی ہیں کہ میں قادیان سے کچھ عرصہ جایا کروں۔۔۔۔۔پس وہاں جانا مشکل اس لئے یہ تدبیر سوچی۔۔۔۔کہ میں کچھ عرصہ لودھیانہ جا ٹھہروں اور چونکہ کوٹلہ قریب ہے اس لئے مجھ کو۔۔۔۔اطلاع ہر ایک معاملہ کی پہنچ سکتی ہے۔آدمی آ جا سکتے ہیں گویا میں شیروانی کوٹ میں بیٹھا ہوں اور چونکه۔۔۔۔لاہور آ جا سکتا ہوں اور اس طرح اہل وعیال بھی مجھ سے الگ نہ رہیں گے اور چونکہ چند روزہ کام نہیں بلکہ تین چار مہینے کا کام ہے اور اگر معاملات نے مجبور کیا تو شاہد مجھ کو شملہ بھی جانا پڑے کیونکہ وہاں غالباً آخری فیصلہ ہمارے معاملات کا ہونا ہے اس لئے مجھ کو ایسے مقام پر رہنا ضروری ہے کہ ریل کے سر پر ہوں اور سب جگہ میں چند گھنٹہ کی غیر حاضری سے آ جا سکوں اور اپنے معاملات کی بھی خبر رکھ سکوں پس اگر حضور اجازت دیں تو میں تہیہ سفر کروں اور آخر مئی یا ابتدائے جون میں یعنی ان دو ہفتہ کے اندر اندر مع عیال واطفال چلا جاؤں۔ہاں صرف بڑے تینوں لڑکے یہاں رہیں گے صرف تعطیلوں میں میرے پاس چلے جائیں گے حضور دعا فرمائیں کہ میری ابتلائیں دور ہوں۔خواہ وہ مالی ہیں یا روحانی یا ریاست کے متعلق۔یہ بہت ہی سخت وقت ہم پر ہے۔حضور خاص دعا فرما ئیں اور یہ بھی دُعا فرمائیں کہ یہ سفر ہمارے لئے با برکت و پُر امن ہر حالت میں ثابت ہو۔راقم محمد علی خان مبارک ہو بہت بہتر ہے آپ تشریف لے جائیں۔نورالدین ۲۴ رمئی ۱۳ء آپ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ہمیشہ اپنے خطوط میں ”طبیب روحانی“ کے الفاظ سے مخاطب کرتے۔حضور کی صحبت فیض پاش کو اپنے لئے آب حیات یقین کرتے حضور سے علیحد گی آپ کو حد درجہ نا گوار تھی۔ایک دفعہ آپ کے ایک بھائی نے آپ کو آنے کے لئے لکھا کہ بعض مقدمات کا انفصال آپ کے آنے پر موقوف ہے۔تو آپ نے جواب میں تحریر کیا : حملہ اس خط کے جو حصے پڑھے نہیں گئے وہاں نقطے دئے ہیں۔