اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 634 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 634

634 طلبہ میں ہر دلعزیز ہی نہ تھے بلکہ اپنی معاملہ نہی اور نیکی کے باعث وہ ایک قائدانہ حیثیت رکھتے تھے۔اسلامی معاملات میں وہ بڑی قوت اور جرات کے ساتھ دلچسپی لیتے تھے اور کالج کے پروفیسر بھی نواب صاحب کی قوت عمل اور بلندی کردار کیوجہ سے دب جاتے تھے۔یہ سب تفصیلات اسی تذکرہ کے لئے محفوظ ہیں۔والد صاحب کی وفات کے بعد جب اپنی جاگیر کے صاحب اقتدار ہوئے اس وقت ایک کثیر رقم آپ کے خزانہ میں موجود تھی۔آپ ہمیشہ علم دوستی کے پیکر رہے۔آپ کا روپیہ ہمیشہ نیک کاموں میں خرچ ہوا۔خواتین کی اصلاح کے لئے آپ نے ایک انجمن مصلح الاخوان‘ قائم کی اور ایک اسکول قائم کیا۔جس کے کل اخراجات آپ اپنی جیب سے ادا کرتے تھے۔میں ایک بصیرت کے ساتھ کہتا ہوں کہ آپ کا روپیہ ہمیشہ کارِ خیر میں صرف ہوا۔اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کے منہیات سے آپ کو محفوظ رکھا اور اس میں سر یہ تھا کہ وہ ازل سے مسیح موعود و مہدی مسعود کی دامادی کے لئے منتخب ہو چکے تھے۔حضرت نواب صاحب کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بزرگی کا پہلے سے علم تھا اور وہ حسن ظن رکھتے تھے اس لئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو نواب ابراہیم علی خاں کی علالت کے ایام میں دعا کے لئے بلایا گیا تھا۔تا ہم حضرت اقدس سے تعلقات کی ابتداء۱۸۸۹ء سے ہوئی جبکہ حضور نے باعلام الہی بیعت کے لئے دعوت دی۔حضرت نواب صاحب کی پاکبازی اور مطہر فطرت کا ثبوت اس امر سے ملتا ہے کہ آپ نے پہلا خط جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو لکھا اس میں آپ نے یہی سوال کیا تھا کہ پر معصیت حالت سے کیونکر رستگاری ہو۔اس سوال سے واضح ہوتا ہے کہ آپ کی روح میں تزکیہ نفس اور طہارت قلب کے لئے کس قدر جوش تھا تا کہ آپ ایک ایسے مقام پر کھڑے ہوسکیں جو قد وس خدا کے حضور آپ کو قریب تر کر دے۔حضرت اقدس نے آپ کو لکھا کہ : ’جذبات نفسانیہ سے نجات پانا کسی کے لئے بجز اس صورت کے ممکن نہیں کہ عاشق زار کی طرح خاکپائے محبانِ الہی ہو جائے اور بصدق وارادت ایسے شخص کے ہاتھ میں ہاتھ دے جس کی روح کو روشنی بخشی گئی ہے تا اس کے چشمہ صافیہ سے اس فرد ماندہ کو زندگی کا پانی پہنچے اور اس تر و تازہ درخت کی ایک شاخ ہو کر اسکے موافق پھل لاوے۔حضرت اقدس نے یہ خط ۷ راگست ۱۸۹۰ء کو لد ہیانہ سے لکھا تھا۔سعادت از لی رفیق را تھی اور سعادت کے فرشتے ساتھ تھے اس لئے اس کے بعد آپ نے کچھ عرصہ بعد بیعت کر لی۔نواب صاحب کی بیعت لی۔اکتوبر ۱۸۹۰ء کی ہے جیسا کہ ۹ رکتوبر ۱۸۹۰ء کے مکتوب سے معلوم ہوتا ہے۔ابتداء نواب صاحب نے