اصحاب احمد (جلد 2) — Page 633
633 خیال اور نیک دل بزرگ آج کل کے زمانے میں شاذ ہی نظر آتے ہیں۔مجھے کئی سال سے برسات کے موسم میں آم بھیجا کرتے تھے اور آموں کے انتخاب میں بھی انتہائی خوش ذوقی کا ثبوت دیتے تھے۔“ حضرت عرفانی صاحب کے تاثرات ۴۳۶ حضرت عرفانی صاحب کے حضرت نواب صاحب سے نصف صدی سے زائد عرصہ کی ملاقات وتعارف کے تاثرات کا نچوڑ درج ذیل ہے: حضرت نواب محمد علی خاں صاحب رضی اللہ عنہ مالیر کوٹلہ کے شاہی خاندان کے ممتاز رکن تھے۔اس خاندان کے ارکان شروانی افغان کہلاتے ہیں اور مالیر کوٹلہ کے علاوہ بھکن پور وغیرہ (یو۔پی ) میں بھی شروانی خاندان کے بعض ممتاز اصحاب سکونت پذیر ہیں۔جہاں بھی ہیں دنیوی حیثیت سے معزز و ممتاز ہیں اور ان میں دینی صلاحیت بھی موجود ہے۔خاندانی حالات اللہ تعالیٰ نے توفیق دی تو حیات نواب محمد علی خاں“ میں لکھوں گاور نہ جسے خدا توفیق دے گا۔یہاں مختصر تذکرہ صرف اس تعلق کی وجہ سے زیر تحریر ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ آپ کو ہے یعنی آپ کو یہ سعادت اور عزت حاصل ہے کہ آپ نہ صرف روحانی طور پر حضرت کے فرزند ہیں بلکہ صہری تعلق کی وجہ سے بھی نسبت فرزندی حاصل ہے۔وذلك فضل الله يوتيه من يشاء اور آپ کی وفات خاندان نبوت کیلئے عموماً اور حضرت ام المومنین مدظلہا کیلئے خصوصاً ایک صدمہ عظیم ہے اور اس حادثہ پر حضرت ام المومنین نے صبر جمیل کا پھر کامل نمونہ دکھایا۔حضرت نواب صاحب سے خاکسار عرفانی کبیر کو ۱۸۹۱ء سے سعادت ملاقات حاصل ہے۔حضرت نواب صاحب اس وقت عنفوان شباب میں تھے اور عرفانی حدود بلوغ میں داخل ہورہا تھا۔قریباً نصف صدی سے زائد عرصہ کی ملاقات میں میں نے انہیں مستقیم الاحوال دیکھا۔میں اس محبت و شفقت کا ذکر تفصیلاً نہیں کر سکتا جو خاکسار کے حال پر آپ کو تھی۔وہ ایک مردم شناس ، قدردان ، معاملہ فہم اور وفادار بزرگ تھے۔نواب صاحب کا خاندان شیعہ تھا اور آپ کی ابتدائی تعلیم اسی ماحول میں ہوئی۔مگر خدا تعالیٰ کی طرف سے انہیں قلب سلیم اور دماغ فہیم عطا فرمایا گیا تھا اس لئے وہ ہر مسئلہ کی تحقیق خود کرتے تھے۔تعصب ، ضد اور دہر داری ہر گز نہ تھی۔سچ کے قبول کرنے کو ہر وقت آمادہ رہتے تھے۔مذہبی ابتدائی تعلیم کے بعد لاہور کے ایچی سن کالج میں داخل ہوئے جوحکومت نے رو سائے پنجاب کے بچوں کے لئے بڑے اہتمام سے قائم کیا تھا۔حضرت نواب صاحب با وجود ایک طالب علم ہونے کے کالج کے