اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 624 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 624

624 تک میں اپنے دل کے اندر تازہ پاتی ہوں۔ہم سروانی کوٹ میں تھے کہ ڈاکٹر محمد اسمعیل خان گڑیانی والے جو نواب صاحب کی ملازمت کے سلسلہ میں وہاں مقیم تھے موسم گرما میں نمونیا میں مبتلاء ہو گئے اور ان کی بیماری سرعت سے بڑھ کر خطرناک صورت اختیار کر گئی۔ڈاکٹر صاحب مرحوم صحابی اور بڑی خوبیوں کے انسان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عاشق زار تھے اور ایک بات اپنے متعلق اکثر سُناتے تھے کہ میرے گاؤں میں لوگ کہتے ہیں کہ قادیانی ہو تو گئے ہو۔میاں کبھی مرو گے تو (نعوذ باللہ ) گتے لاش گھسیٹیں گے یہاں تو کوئی جنازہ بھی نہ پڑھائے گا تو میں ان کو یہ شعر سُنا دیتا ہوں کہ مجنوں تھا میں جو کہ بیاباں میں رہ گیا! ہم تو مریں گے یار کی دیوار کے تلے! غرض جب ان کی حالت نازک ہونے لگی تو نواب صاحب کی بیقراری بھی بڑھنے لگی لیٹتے اور پھر اُٹھ بیٹھتے ان کے فکر کے علاوہ ایک خاص کرب تھا جس کو میں دیکھ رہی تھی آخر جو دل میں تھا انکی حالت یاس کو دیکھ کر اس کا عزم کر لیا اور ڈاکٹر صاحب کے پاس باہر گئے اور ان کو کہا کہ ڈاکٹر صاحب آپ کا قادیان جانے کو دل چاہتا ہو گا آپ بالکل فکر نہ کریں اور نہ جھکیں آپ کہدیں اگر جانا چاہتے ہیں تو فورا نہایت آرام سے پہنچانے کا انتظام آپ کے لئے میں کروں گا۔ڈاکٹر صاحب چاہتے ہی تھے کہا مجھے قادیان پہنچادیں تو اچھا ہی ہے۔اسی وقت ریز روڈ درجہ کا انتظام نہایت تگ و دو سے کر کے ساتھ آدمی بھجوا کر ڈاکٹر صاحب کو قادیان جلد از جلد روانہ کر دیا گیا۔یہاں انہوں نے تیسرے روز بچ بچ یار کی دیوار تلے جان اپنے مولی کو سونپ دی کیا لوگ تھے جن کو خدا کے ہاتھ نے اس زمانہ میں جواہر ریزے سمجھ کر چن لیا تھا خدا زیادہ ہی زیادہ اپنا قمر ب ان کو عطا فرما کر اُن کے درجات بلند کرتا رہے۔آمین۔ڈاکٹر صاحب کو بھیج کر جو خوشی جو اطمینان اور مسرت کی لہر ان کے چہرہ پر تھی میں اس کو بھول نہیں سکتی۔جب اطلاع آگئی تو بار بار کہتے تھے شکر ہے کہ ڈاکٹر صاحب زندہ قادیان پہنچ گئے۔انکی تمنا پوری ہوگئی۔اب انکو اطمینان ہوگا۔خوش ہو نگے وغیرہ۔اس کا ہمیشہ ہی خیال رہتا مگر اب چند سال سے کئی بار بہت تڑپ سے فرمایا کرتے تھے کہ دُعا کرو جب میرا وقت آئے تو قادیان سے باہر نہ آئے۔میں قادیان میں ہی مروں ( شاید ان کے پاس اس کے متعلق فکر کے لئے وجوہ بھی ہوں ) بہت ہی تڑپ سے اس دعا کے لئے کہتے میرے لئے ایسا ذ کر سخت تکلیف دہ ہوتا تھا مگر ایک دن میں نے اس کے جواب میں ان سے بہ چشم پر آب کہہ ہی دیا تھا کہ ” آپ فکر نہ کریں میرا ایمان ہے کہ ڈاکٹر محمد اسمعیل خاں مرحوم والی آپ کی نیکی خدا ہرگز ضائع نہیں کریگا اور آپ کا وقت انشاء اللہ قادیان میں ہی آئے گا۔اور سالہا سال کا عرصہ باہر اور اکثر حصہ وقت