اصحاب احمد (جلد 2) — Page 621
621 تو کم ہے مگر باقی عوارض کمر درد اور خون کا آنا اسی طرح ہیں یہ کمزوری اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ بولا بھی نہیں جاتا دوا اور پانی وغیرہ بھی چمچہ سے حلق میں ڈالا جاتا ہے دعاؤں کی از حد ضرورت ہے احباب جماعت خاص طور پر حضرت ممدوح کے لئے دُعائیں کریں“۔ڈاکٹر لطیف صاحب کو دہلی سے بذریعہ تار بلوایا گیا جو آج دوپہر کی گاڑی سے تشریف لائے۔ان کی تشخیص ہے کہ اس وقت حضرت نواب صاحب کو نمونیہ سخت قسم کا ہے اور دونوں پھیپھڑوں پر اس کا اثر ہے۔لاہور اور دہلی سے پینی سیلین کے منگوانے کا انتظام کیا جا رہا ہے باقی حالات بدستور ہیں کمزوری بہت زیادہ ہے۔احباب خاص طور پر حضرت نواب صاحب کی صحت وعافیت کے لئے دُعا فرمائیں۔وفات اور تجہیز وتدفین بالآخر اس جلیل القدر صحابی کی رُوح ۱۰ فروری ۱۹۴۵ء کو جسد عصری سے پرواز کر گئی اناللہ وانا اليه راجعون۔وفات کی خبر ملنے پر قادیان کے احباب کثرت سے تعزیت کے لئے کوٹھی ” دار السلام پہنچے۔ان کی کثرت کی وجہ سے باغ میں دریاں بچھائی گئیں۔اس وقت نواب محمد عبد اللہ خاں صاحب حضرت مدوح کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کے متعلق حالات بیان فرماتے تھے جس نے میری آتش شوق کو اس قدر بھڑ کا یا کہ اگلے روز سے ہی میں نے آپ کے حالات قلمبند کرنے شروع کر دیئے۔تعزیت کے لئے ہز ہائی نس نواب صاحب مالیر کوٹلہ کی طرف سے ان کے ولیعہد نواب زادہ افتخار علی خاں صاحب۔نیز نواب زادہ رشید علی خاں صاحب خلف سر ذوالفقار علی خاں صاحب مرحوم اور ہز ہائی نس کے چھوٹے صاحبزادہ نواب زادہ الطاف علی خاں صاحب مع اپنی ہمشیرہ بیگم نواب زادہ میاں محمد عبد الرحمن خاں صاحب تشریف لائے۔موخر الذکر اور کئی ایک اقارب کئی روز سے آئے ہوئے تھے مجھے ان میں سے بعض سے استفادہ کرنے کا موقعہ ملا۔الفضل میں زیر عنوان ” حضرت نواب محمد علی خاں صاحب رضی اللہ عنہ کی تجہیز وتدفین ذیل کی تفصیل مرقوم ہے جس کا اکثر حصہ خاکسار کو مشاہدہ کرنے اور جنازہ کو کندھا دینے کا موقعہ ملا: قادیان ۱۱ فروری۔حضرت نواب محمد علی خاں صاحب رضی اللہ عنہ ایک لمبی مدت کے بعد کل انتقال فرما گئے انا لله وانا اليه راجعون آپ اگست ۱۹۴۴ ء سے علیل چلے آتے تھے اور پیشاب میں خون آنے کی تکلیف تھی۔جس کی وجہ سے بہت کمزور ہو چکے تھے مگر آخر تک ہوش وحواس بالکل درست رہے اگر چہ آخری دور روز بول نہ سکتے تھے۔