اصحاب احمد (جلد 2) — Page 560
560 ہیں۔چونکہ کوئی قاعدہ نہیں مرتب ہو سکتا اس لئے استفتائے قلب پر انسان دے۔اگر قلب کسی کو محتاج سمجھے تو اس کو دے دو۔اور جس پر یہ خیال ہو کہ یہ مستحق نہیں ہے اس کو نہ دو مگر ز جر توبیخ ہرگز نہیں چاہئے۔ہاں جو گدا گری اور سوال کے درجہ سے زیادتی کرے اور دوسری حدود کو توڑے مثلاً کسی کے گھر میں باوجود منع کرنے کے گھسے اور منع کرنے والوں سے لڑے تو وہ سائل نہیں بلکہ فسادی ( ہے ) اس کا ویسا علاج ہونا چاہئے اور ویسے اچھے برے کو بھی دے دیں ہرج نہیں خداوند تعالیٰ ہر قسم کے آدمی کو دیتا ہے۔میرے پوچھنے پر کہ زکوۃ زیور پر ایک دفعہ دینی چاہئے یا ہر سال فرمایا گو اس میں اختلاف ہے مگر ہم تو ہر سال ہی دیتے ہیں۔سیر سے آکر مولوی محمد علی صاحب عہدہ داران مدرسہ وغیرہ کے متعلق گفتگو ہوتی رہی۔پھر مولوی نورالدین صاحب تشریف لے آئے۔منظور محمد صاحب آگئے ان سے کچھ بات ہوئی پھر بعد نماز بھی، مولوی محمد علی صاحب سے کتابوں وغیرہ کے متعلق گفتگو ہوئی پھر چار بجے درس میں گیا۔۵ر جنوری ۲۴۰۱۹۰۲ / رمضان المبارک آج سیر میں پہلے مولوی محمد احسن صاحب امروہی سے باتیں ہوتی رہیں پھر مفتی محمد صادق سے۔پھر مولوی محمد علی سے۔۶ / جنوری ۱۹۰۲ء ۲۵ / رمضان المبارک آج سیر کے لئے مجھ کو دیر ہوگئی حضرت اقدس کو بہت انتظار کرنا پڑا اس سے بڑی ندامت ہوئی۔آج سیر ( میں ) حضور علیہ السلام نقشہ پیشنگوئی ہاسنتے رہے شیخ ولی محمد کی موقوفی یکم جنوری ۱۹۰۲ء سے عمل میں آئی ہو الحکم جنوری ۱۹۰۲ء سے تین ماہ کے لئے فی الحال مولوی محمد نواب خاں ثاقب پیشکار کے طور سے ملازم رکھے گئے۔تنخواہ (اس عرصہ کے لئے فی الحال پچیس روپے ہو گی ) آج حضرت اقدس کو دورہ آ کر پڑا۔اس لئے ظہر سے عشاء تک کسی نماز میں شریک نہیں ہوئے بعد نماز ظہر کمیٹی ڈائرکٹر ان میگزین ہوئی۔اس میں مولوی محمد علی میجنگ ڈائرکٹر مقرر ہوئے اور ان کو معمولی اخراجات کو باختیار خود کرنے اور تمام ذمہ داریوں کو جو حساب اور عدالت کے متعلق ہوں ان کے ذمہ ڈالی گئیں میگزین اردو کو مارچ ۱۹۰۲ء سے جاری کرنے کی حضرت پیر منظور محمد صاحب موجد قاعده سیسرنا القرآن مراد ہیں۔(مؤلف) شیخ ولی محمد صاحب کا ذکر جلسہ ۹۲ء کے تعلق میں پہلے ہو چکا ہے۔(مؤلف)