اصحاب احمد (جلد 2) — Page 559
559 کے متعلق قواعد مرتب کرتا رہا بعد اس کے چار بجے درس حضرت مولانا مولوی نورالدین صاحب میں گیا۔جنوری ۱۹۰۲ ۲۲۰ رمضان المبارک دیر ہونے کی وجہ سے نہ سحری کھائی۔آج سیر نہیں ہوئی۔قواعد مدرسہ لکھے نماز جمعہ بہ سبب علالت مولوی عبد الکریم صاحب چھوٹی مسجد میں ہوئی۔نماز عصر کے بعد مولوی محمد علی صاحب سے مشورہ متعلق قواعد مدرسہ کیا۔پھر مفتی محمد صادق آگئے انہوں نے میگزین کے متعلق نمونہ نقشہ جات کتب حساب وغیرہ دکھلائے۔پھر مغرب کے وقت بعد افطار روزہ مسجد میں گیا۔نماز مغرب پڑھی۔۴ جنوری ۱۹۰۲ ۲۳۶ رمضان المبارک آج سیر میں میرے پرچہ سوال درباره مصرف و مستحقین خیرات کے جواب میں فرمایا خلاصہ۔۔۔جو یاد رہا یہ ہے: فرمایا بعض انسان دولت کو اپنا سہارا سمجھتے ہیں یہ شرک ہے اور ممسک بننے تک اس کی نوبت پہنچتی ہے اور کبھی اس قدر مسرف ہوتے ہیں کہ آخر ان کو بعض ضروری امور میں خرچ کرنے کے لئے روپیہ نہیں ہوتا اور چونکہ اور بہت سے حقوق انسان پر خداوند تعالیٰ نے لگائے ہوئے ہیں اس لئے اس کو ان حقوق کی بھی رعایت واجب ہے۔چنانچہ قرآن شریف میں بھی میانہ روی کی ہدایت ہے۔یعنی نہ تو کل البسط ہو اور نہ ایسا ہو ہاتھ گردن پر لگائے اس میں بھی اعتدال کا حکم ہے یا سائل پر زجر و توبیخ روا نہیں ہاں یہ ضرور ہے کہ ہمارے ملک میں مسلمانوں میں یہ بد عادت بہت بڑھ گئی ہے خداوند تعالیٰ نے کچھ احکام معطی کے لئے دیئے ہیں اور کچھ سائل کے لئے۔پس سائل کے احکامات کا خیال معطی کوضروری نہیں کیونکہ اس میں اس کا تعلق خدا کے ساتھ (ہے) خداوند تعالیٰ اس سے خود سمجھے گا معطی کو جو کم۔۔۔دیئے ہیں ان کا خیال رکھنا چاہئے ہمارے ملک میں دو طرح کے فقیر ہوتے ہیں ایک نرگرا اور ایک خر گدا۔نر گدا تو وہ ہوتے ہیں کہ آواز دی کسی نے کچھ دے دیا دے دیا نہیں ( تو ) دوسری جگہ چل دئے اور خر گدا وہ ہوتے ہیں جو اڑ جاتے ہیں۔کاش یہ خرگدائی خدا سے ہوتی تو اچھا ہوتا۔یہ عام گدا بڑی بڑی تکلیفیں سہتے آیت یہ ہے۔وَلَا تَجْعَلُ يَدَكَ مَغْلُولَةً إِلى عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطُهَا كُلَّ الْبَسْطِ قَتَقْعُدَ مَلُومًا مَّحْسُورًا -