اصحاب احمد (جلد 2) — Page 544
544 ویورپین ایک طرح کے گناہ کرتے ہیں تو مسلمان دوسری طرح کے۔بات تو یہ ہے کہ کسی قسم کے گناہ نہ کرے۔(۲) دوسری بات خداوند تعالیٰ کوکسی نیکی اور عمدہ کام کے لئے معطی وانعام دہندہ سمجھنا اور بدی کی حالت میں اس کو سزا دینے والا سمجھنا ہے۔ایک فلسفی نظارہ فطرت سے نتیجہ نکال سکتا ہے کہ خدا ہونا چاہئے مگر وہ یہ نتیجہ نہیں نکال سکتا کہ خدا ہے۔پس ہمارا مشن ہے کہ خدا ہے انگریز کے اس سوال پر کہ گنا ہوں کی سزا میں آئندہ جہان میں ہوں گی یا اس جہان میں فرمایا گناہ دوطرح کے ہوتے ہیں ایک جن کی سزا دنیا میں ملتی ہے اور دوسرے جن کی سزا آخرت میں ملے گی۔جب کوئی گناہ اس درجہ کو پہنچ جاتا ہے کہ اس سے دنیا کے انتظام میں فتور آئے تو اس کی سزا دنیا میں ملتی ہے اور وہ اندرونی یا بیرونی گناہ جس کا حال لوگوں کو معلوم نہ ہو یا ارادہ گناہ ہو ان سب کی سزا آخرت میں ہوگی اس کے بعد آپ نے فرمایا کہ ہم تمہارے ( انگریز کے ) چہرہ پر عقل اور زیر کی کے آثار پاتے ہیں۔اس لئے ہم نے آپ کو مختصرا اپنے مشن کا مقصد بیان کیا ہے مگر یہ چند گھنٹوں کی گفتگو میں سمجھ میں نہیں آسکتا۔ہمارا مقصود اس وقت صرف یہ ہے کہ تم میں سچائی کے کھوج کی چاہت ہو جائے۔کیونکہ جب کہ ایک شخص تحقیق کرتا ہے تو ایک وقت وہ پالیتا ہے اس لئے ہم چاہتے ( ہیں ) کہ شاید ( اس ) ذریعہ سے ہمارے مشن کی اشاعت ہو۔لیکن انسان کو تعصب سے پر ہیز کرنا چاہئے اور اسی طرح جب تک کوئی (بات) پوری طرح سے سمجھ میں نہ آئے ہرگز اس کو قبول نہیں کرنا چاہئے۔پس آپ بلا تعصب خوب تحقیق کریں اور پھر اگر ہماری بات ٹھیک معلوم ہو تو اس کو قبول کریں یہ تقریریں مکان سے لے کر نہر تک رہیں اس کے بعد انگریز ا کہ میں بیٹھ کر بٹالہ کوروانہ ہوا اور حضرت اقدس مع مریدین واپس تشریف لائے۔راستہ ( میں ) پہلے اسی انگریز کے متعلق مختلف باتیں ہوتی رہیں پھر میں نے عرض کیا ایک امریکہ کی کمپنی کا ایجنٹ میرے پاس آیا اس نے کہا تھا کہ تم اپنی تصویر اور اپنے حالات خاندان لکھو۔ہم دوسو روپیہ میں چار کتابیں دیں گے میں نے سوچا ہے کہ بجائے میرے حضور کی تصویر ہو۔اس طرح امراء اور انگریزوں میں تبلیغ کا ذریعہ ہے۔فرمایا مناسب ہے فرمایا۔۔استقاء میں امام متقی ہونا چاہئے ورنہ اگر بارش آنی ہوگی تو نہ ۱۸ نومبر کو مسٹر ڈکسن کو الوداع کرتے ہوئے نہر تک جانے کا جہاں سے وہ اکہ پر سوار ہوکر بٹالہ روانہ ہو گیا اور اس گفتگو کا ذکر جو آپ نے اس سے کی الحکم جلد نمبر ۴۶ صفحه۱ تا۴ نمبر ۴۷ صفحه ۱ تا ۳ ، جلد ۶ نمبر ۲ صفحہ ۳ تا ۶ نمبر ۲ صفحہ ۳ میں آتا ہے۔