اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 543 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 543

543 ۱۸/ نومبر ۱۹۰۱ء اب ہم آئندہ صبح وشام کی ضروریات اور نماز وغیرہ جن کا روزانہ معمول ہے تذکرہ نہ کریں گے۔۲-۱- ۸ بجے کے قریب سیر کو حضرت اقدس مع مہمان انگریز و مریدین تشریف لے گئے۔آپ نے اس انگریز سے اپنے مشن کے متعلق بہت بڑی تقریر میں فرمائیں۔یہاں سے چلتے ہی آپ نے تقریر فرمائی کہ ہمارا مشن اسی ڈھب کا ہے جس ڈھب پر ابراہیم۔موسیٰ اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے۔بڑی غایت ان کی گناہ کا روکنا اور خدا کو منوانا تھا اگر انسان گناہ سے مجتنب من کل الوجوہ ہے تو وہ ہدایت یافتہ ہے کیونکہ گناہ ایک ایسی زہر ہے جو مہلک ہے جب انسان گناہ کو گناہ سمجھتا ہے اور ہر قسم کے گناہ سے بچتا ہے۔یہ ٹھیک ہے کہ ہر ایک مذہب کے آدمی خواہ مسلم ہیں یا غیر مسلم سب ایک نہ ایک طرح گناہ میں مبتلا ہیں۔عیسائی بقیہ حاشیہ - ایک موقع پر میر صاحب کے عزیز نے اپنے خط میں ترکوں کی برائی لکھی تھی اور میر صاحب اس کا معقول جواب سنا ر ہے تھے۔حضرت اقدس نے اس پر فرمایا۔اگر چہ ہمارے نزدیک ان اکرمکم عند الله اتقاکم ہی ہے اور ہمیں خواہ مخواہ ضروری نہیں کہ ترکوں کی تعریف کریں یا کسی اور کی مگر سچی اور حقیقی بات کے اظہار سے ہم رک نہیں سکتے۔ترکوں کے ذریعہ ۱۳۹۵ سے اسلام کو بہت بڑی قوت حاصل ہوئی ہے۔یہ کہنا کہ وہ پہلے کا فر تھے یہ طعن درست نہیں۔کوئی دوسو برس پہلے کافر ہوا کوئی چار سو برس پہلے یہ کیا ہے۔آخر جوامی سید کہلاتے ہیں کیا ان کے ابا واجداد پر کوئی وقت کفر کی حالت کا نہیں گزرا؟ پھر ایسے اعتراض کرنا دانشمندی نہیں ہے۔ہندوستان میں جب یہ مغل آئے تو انہوں نے مسجدیں بنوائیں اور اپنا قیام کیا۔الناس علی دین ملوکھم کے اثر سے اسلام پھیلنا شروع ہوا غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں خدا تعالیٰ نے دوہی گروہ رکھے ہوئے ہیں ایک ترک دوسرے سادات۔ترک ظاہری حکومت اور ریاست کے حق دار ہوئے اور سادات کو فقر کا مبداء قرار دیا گیا۔چنانچہ صوفیوں نے فقر اور روحانی فیوض کا مبداء سادات ہی کو ٹھہرایا ہے اور میں نے بھی اپنے کشوف میں ایسا ہی پایا ہے دنیا کا عروج ترکوں کو ملا ہے۔حضرت اقدس یہ ذکر کر رہے تھے کہ ایک یورپین صاحب بہا در اندر آئے اور ٹوپی اتار کر مجلس میں آگے بڑھے اور بڑھتے ہی کہا۔۔۔السلام علیکم۔عصر کی نماز کے بعد اس نے حضرت اقدس کے تین فوٹو لئے۔دوفو ٹو آپ کے احباب کے ساتھ لئے اور ایک فوٹو الگ لیا۔(صفحہ ۱ تا ۳)