اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 6 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 6

6 لیکن حکومت نے فیصلہ کیا کہ ریاست میں انتخاب ہو۔چونکہ نواب غلام محمد خاں کی مالی حالت اچھی نہ رہی تھی اور شرکاء کے پاس کافی روپیہ تھا اس لئے انہوں نے روپیہ خرچ کر کے زیادہ ووٹ حاصل کر لئے اور کامیاب ہو گئے۔بناء بریں اور نیز اس لئے بھی کہ ریاست سنی تھی اور آپ شیعہ تھے۔ہر وقت تنازعات کے رونما ہونے کا خطرہ لاحق رہتا تھا اور گدی کے حصول میں ناکامی کے بعد علاقہ کوٹلہ کے عوض ریاست سے باہر جاگیر حاصل کرنے میں بھی کامیابی نہ ہوئی تھی۔نواب غلام محمد خاں نے بنجرات سکندر پورہ وغیرہ دیہات میں جو ورثہ میں نواب سکندر علی خاں کی وفات پر حاصل ہوئے تھے۔۱۸۷۵ء میں سروانی کوٹ کی بنیاد ڈالی۔جس کا نقشہ صفحہ ۵ پر ملاحظہ فرمائیں : ۱۸۷۲ ء تک تمام حصہ داران یعنی اولادنواب جمال خاں میں تمام کلکٹری اور فوجداری اختیارات موجود تھے۔ان میں جائداد مساوی حصص میں تقسیم ہوتی تھی اور ان میں سے ہر ایک فوجدار با اختیار رئیس ہوتا تھا۔لیکن گورنمنٹ نے یہ چاہا کہ چونکہ آپس میں تنازعات وفسادات ہوتے ہیں ایک ہی نواب رہے جسے فوجداری اختیارات بھی حاصل ہوں باقیوں کو صرف کلکٹری اختیارات رہیں۔چونکہ نواب غلام محمد خاں سمجھتے تھے کہ آئندہ وہ خود نواب ہونگے انہوں نے بھی اس تجویز کو مناسب قرار دیا۔اس لئے احکام جاری ہوئے کہ نواب غلام محمد خاں کی وفات کے بعد فوجداری اختیارات صرف نواب والئی مالیر کوٹلہ کو حاصل ہوا کرینگے۔چنانچہ ۱۸۷۸ء میں ان کی وفات کے بعد یہ اختیارات جملہ خوانین سے جاتے رہے لیکن بعد میں کلکٹری کے اختیارات بھی نواب والئی ریاست کی طرف منتقل کر دیئے گئے کیونکہ پہلے بٹائی کا طریق جاری تھا۔بعد ازاں اس طریق کو حکومت نے لگان میں تبدیل کر دیا۔۱۸۹۹ء سے اولاد بہادر خاں کے حصص مساوی تقسیم ہوتے ہیں۔مگر اولاد عطاء اللہ خاں میں سوائے والٹی مالیر کوٹلہ کے باقی اولاد کے لئے گزارہ تجویز ہوتا رہا۔نواب سکندر علی خاں صاحب کا ترکہ اس طرح حسب رواج خاندان تقسیم ہوا: ایک حصہ سالم نواب غلام محمد خاں کو۔ایک حصہ سالم بطور رئیس نواب ابراہیم علی خاں۔ایک حصہ سالم بطور ورثاء نصف نواب ابراہیم علی خاں۔نصف خاں محمد عنایت علی خاں کو۔صورت آمدنی جو پہلے تھی اور جو نواب سکندر علی خاں کا ترکہ ملنے پر ہوگئی حسب ذیل تھی۔نمبر شمار انوب ابراہیم علی خاں خان عنایت علی خاں خان غلام محمد خاں جا گیر جدی حصہ وراثت نواب سکندر علی بطور رئیس // ۲۰۰۰۰ // Yo۔۔۔// ۲۰۰۰۰ // Yo۔۔۔//۔۔۔۔11 M۔۔۔۔میزان // ۱۲۰۰۰۰ // ^۔۔۔۔// ^۔۔۔۔۴۰۰۰۰ // ۲۸۰۰۰۰ ٹوٹل: