اصحاب احمد (جلد 2) — Page 492
492 تھا۔تو نواب صاحب کی درخواست پر آپ نے نواب صاحب کی کوٹھی دارالسلام میں قیام کرنا پسند کر لیا تھا۔جہاں آپ کا وصال ہوا۔آپ نواب صاحب کی طرف سے خدمت کے لئے اپنے قلب صافی میں حد درجہ جذبہ امتنان متموج پاتے تھے۔جس کا اظہار بھی فرماتے تھے۔آپ نے نواب صاحب کو اپنا وصی بھی مقررفرمایا۔( ان تمام امور کی تفصیل خلافت کے تعلق میں آچکی ہے )۔۹- خدمات صد را انجمن احمد سہ وغیرہ -9 ۱۹۰۵ء میں حضرت اقدس کو متواتر الہامات سے قرب وصال کی خبر ملی جس نے آپ کی ہستی کو بنیاد سے ہلا دیا۔آپ نے ارشاد خداوندی سے ایک خاص مقبرہ کی تجویز فرمائی۔جس میں مخلصین جماعت بعض شرائط کے ماتحت دفن ہوں اور انتظام مقبرہ کے لئے حضرت مولوی نورالدین صاحب کی صدارت میں ایک کمیٹی مقرر فرمائی۔جنوری ۱۹۰۶ء میں صدر انجمن احمدیہ کا قیام عمل میں آیا۔اور اسے سرکاری قانون کے مطابق رجسٹرڈ کر دیا گیا۔اس کے صدر بھی حضرت مولوی صاحب ہی مقرر کئے گئے۔صدر۔سیکرٹری اور مشیر قانونی کے علاوہ گیارہ اور ممبر تھے۔جن میں حضرت نواب صاحب بھی تھے۔۱۵۹ قاعدہ کی رو سے حضرت اقدس کے مقرر کرده ممبران بشرط اخلاص دوامی ممبر تھے۔صدر انجمن کے معرض وجود میں آنے کا باعث یہ امر ہوا کہ قیام کمیٹی انتظام بہشتی مقبرہ کے جلد بعد حضرت اقدس کے سامنے یہ تجویز پیش کی گئی کہ سلسلہ کا کام بہت پھیل گیا ہے اور کئی قسم کے کام جاری ہونے کی وجہ سے مناسب ہے کہ واحد مرکزی کمیٹی قائم کر دی جائے۔چنانچہ اس کے قیام پر تعلیم الاسلام ہائی سکول۔ریویو آف ریلیجنز اور مقبرہ بہشتی متینوں کی انجمنیں اس مرکزی انجمن کے زیر انتظام وزیر نگرانی کر دی گئیں۔حضرت نواب صاحب کو ۱۹۰۰ ء سے ۱۹۱۸ ء تک مختلف عہدوں پر سلسلہ کی خدمات کا موقعہ ملا۔اس عرصہ میں آپ کا سلوک رفقاء کار سے جس طرح کا تھا۔اور جس رنگ میں آپ کام کرتے تھے۔اس بارہ میں مکرم مفتی محمد صادق صاحب اپنے دوسالہ تجربہ کا لخص ذیل کے الفاظ میں تحریر فرماتے ہیں۔جبکہ آپ کو کالج تعلیم الاسلام میں حضرت نواب صاحب کے ماتحت کام کرنے کا موقعہ ملا تھا۔اس دو سال کے عرصہ میں مجھے حضرت نواب صاحب کے ساتھ مل کر قادیان کے تعلیمی کاموں میں بہت حصہ لینا پڑا۔اور اس واسطے نواب صاحب سے بھی ملاقات کا بہت موقعہ ملتا رہا۔حضرت نواب صاحب بہت سادگی سے اپنی زندگی بسر کرتے