اصحاب احمد (جلد 2) — Page 491
491 کرتے کہ سرزنش کی وجہ دور ہو۔اور ناراضگی کی اہمیت کو سمجھتے تھے اور اس ”نہ“ کے ازالہ کی کوشش کرتے تھے۔چنانچہ مکرم میاں عبد الرحمن خاں صاحب بیان کرتے ہیں۔ایک دفعہ (جب کہ نواب صاحب مدرسہ تعلیم الاسلام میں بطور ڈائریکٹر کام کرتے تھے ) مدرسہ تعلیم الاسلام کے ایک بچے کے پیٹ میں درد ہو گیا۔لڑکا حضرت خلیفہ اول کے پاس گیا۔حضور نے کہلا بھیجا کہ میں بہت سخت ناراض ہوں۔آپ کچھ لڑکوں کا خیال نہیں رکھتے۔آپ نے اس ڈانٹ کو برا نہیں منایا بلکہ اسی وقت ڈاکٹر عبداللہ صاحب نو مسلم کو بلا کر بچہ کے علاج کی ہدایت کی۔“ مکرم چوہدری نور احمد خال صاحب پیشتر کار کن صدرانجمن بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ مجھے نواب صاحب نے سنایا کہ حضرت خلیفہ امسیح اول کا پیغام مجھے کوٹھی دار السلام پہنچا کہ میں نے کہیں باہر جانا ہے گھوڑا بھیج دیں۔میں نے کہلا بھیجا کہ اچھا گھوڑا نوکر کے ہاتھ میں جلد پہنچ جائے گا۔اور نوکر کو گھوڑا تیار کر کے زین وغیرہ اچھی طرح دیکھ کر لے جانے کے لئے کہا۔پیغام لے جانے والے نے حضرت مولوی صاحب کو جا کر کہہ دیا کہ گھوڑا نہیں ملا۔حضرت مولوی صاحب کو بہت تکلیف ہوئی۔اور کہا کہ اچھا نواب صاحب نے تو گھوڑا نہیں دیا میرا خدا مجھے گھوڑا بھیج دے گا۔جب میرا نو کر گھوڑا تیار کر کے حضرت مولوی صاحب کے پاس گیا۔تو مولوی صاحب نے۔۔۔سے فرمایا کہ جاؤ نواب صاحب نے مجھے پہلے گھوڑا دینے سے جواب دے دیا۔اب گھوڑا بھیجنے کی کیا ضرورت ؟ جب نو کر گھوڑا واپس لے کر آیا۔نوکر سے حضرت مولوی صاحب کی بات سن کر بہت تکلیف ہوئی۔نواب صاحب نے فرمایا کہ میں اسی وقت مولوی صاحب کے پاس گیا جا کر اصل قصہ سنایا۔مولوی صاحب بھی حیران ہوئے اور میں بھی حیران ہوا۔فرمایا بہت اچھا اب تو میں خدا سے گھوڑا مانگ چکا ہوں اور میرے خدا نے مجھے کہہ دیا ہے کہ گھوڑا آ جائے گا۔اسی روز یا دوسرے روز ڈیرہ غازیخاں سے ایک عربی گھوڑا معہ متعلقه سامان زین و غیره تیار شدہ حضرت مولوی صاحب کے پاس پہنچ گیا۔دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ کسی رئیس نے گھوڑا بھیجا ہے۔حضرت نواب صاحب نے فرمایا کہ حضرت مولوی صاحب سے مجھے اتنی محبت تھی گھوڑا تو کیا آپ جس چیز کو بھی حکم فرماتے اسی وقت آپ کی خدمت میں پیش کر دیتا۔اللہ تعالیٰ نے جس کی نظر نیتوں پر ہوتی ہے۔اور جو مافی الصدور کا علم رکھتا ہے۔حضرت مولوی صاحب کی (بالخصوص مرض الموت میں) خدمت کا آپ کو موقعہ دیا۔چنانچہ جب حضرت مولوی صاحب کو شہر سے با ہر تبدیلی آب و ہوا کے لئے لے جارہے تھے۔اور بورڈنگ مدرسہ تعلیم الاسلام کے چوبارہ پر ٹھہرانے کا ارادہ