اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 460 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 460

460 اطال اللہ بقاء ہا اور حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کے اسماء درج ہیں منارہ کی بنیا د۱۳ مارچ ۱۹۰۳ء کو بروز جمعہ رکھی گئی تھی اور اس کی تکمیل خلافت ثانیہ کے عہد مبارک میں ہوئی۔مندرجہ بالا عبارت کے پڑھنے کے بعد یہ حقیقت اظہر من الشمس ہوتی ہے کہ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کیونکر خلیفہ برحق اور مثیل مسیح ہیں۔مرکز میں لائبریری کے قیام میں اعانت مرکز قادیان میں ایک لائبریری کا قیام ضروری سمجھا گیا اس سلسلہ میں حضرت نواب صاحب کو بھی اعانت کی تحریک کی گئی چنانچہ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے ۱۹ جنوری ۱۹۰۱ء کو ذیل کے مکتوب کے ذریعہ آپ کو تحریک کی۔قادیان ۱۹ جنوری۔مکرم معظم بندہ السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ایک بہت ضروری بات کی طرف جناب کی توجہ سامی کو معطوف کرنا چاہتا ہوں۔حرج گوارا فرما کر سارے عریضہ کو شرف ملاحظہ بخشے گا۔حضرت اقدس علیہ السلام کے سلسلہ کی ضروریات سے ایک مختصر سی لائبریری کا قائم کرنا قرین مصلحت سمجھا گیا ہے۔کئی ایک عظیم الشان لغت عرب کی کتابیں ، عربی انگریزی ، انگریزی عربی لغت کی کتابیں تازہ تالیف اور دوادین عربی اور تواریخ اور جغرافیہ عربی و غیر با منگوانی ضروری سمجھی گئی ہیں،اس وقت بعض واقفیتوں کے حصول کی ضرورت کی وجہ سے انسائیکلو پیڈیا بریٹانیکا کا تذکرہ درمیان آیا۔یہ جمعہ کا دن بعدا دائے نماز جمعہ تھا۔حضرت مولوی نورالدین صاحب نے تجویز پیش کی کہ اس کے لئے چار سو روپے چندہ کیا جاوے اس ثناء میں تذکرہ معلوم ہوا کہ جناب کے پاس انسائیکلو پیڈیا بریٹانیکا موجود ہے۔اگر چہ جناب کی فتوۃ اور کرم کی تحریک کے لئے شرم معلوم ہوتی ہے کہ درا نفسی کی جائے یا یاس و اضطراب کو امید کے کوچہ میں رہ دی جائے مگر معا ممکن ہے کہ خود جناب کو بھی اس کی ضرورت ہو۔غرض تجویز ہوئی کہ کتب خانے کے لئے ایک مکان تیار ہو اور ضروری کتابیں منگوائی جائیں اور حضرت مولوی صاحب نے بھی وعدہ فرمایا کہ وہ ایک حصہ اپنے کتب خانہ کا مرحمت فرمائیں گے، ان سب امور کے لئے سر دست تجویز ہوئی کہ ایک ہزار پانسو روپے کے لئے چندہ کی فہرست کھولی جاوے۔اب جناب اگر وہ کتاب مرحمت فرما ئیں تو بہت سی زحمت سے جلدی سبکدوشی حاصل ہو جاتی ہے ورنہ جو کچھ اس کارخیر کے لئے منظور فرمائیں۔