اصحاب احمد (جلد 2) — Page 459
459 اور امتحان میں صادق نکلنے کا یہ موقعہ دیا ہے۔مال سے محبت مت کرو، کیونکہ وہ وقت آتا ہے کہ اگر تم مال کو نہیں چھوڑتے تو وہ تمہیں چھوڑ دے گا۔مسیح موعود کے لئے دو پیشگوئیاں تھیں۔سو وہ پیشگوئی جس میں انسانی ہاتھوں کا دخل نہ تھا۔یعنی رمضان میں خسوف کسوف۔۔وہ تو کئی سال گزر چکے کہ ظہور میں آچکی لیکن یہ پیشگوئی جس میں انسانی ہاتھوں کا دخل ہے یعنی منارہ کا طیار ہونا یہ اب تک ظہور میں نہیں آئی اور مسیح موعود کا حقیقی نزول یعنی ہدایت اور برکات کی روشنی کا دنیا میں پھیلنا یہ اسی پر موقوف ہے کہ یہ پیشگوئی پوری ہو۔یعنی منارہ طیار ہو کیونکہ مسیح موعود کے لئے جو یہ لفظ استعمال کیا گیا ہے کہ وہ نازل ہوگا یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بغیر وسیلہ انسانی اسباب کے آسمان سے ایک قوت نازل ہوگی جو دلوں کو حق کی طرف پھیرے گی۔اور مرا داس سے انتشار روحانیت اور بارش انوار و برکات ہے۔سو ابتداء سے یہ مقدر ہے کہ حقیقت مسیحیہ کا نزول جونور اور یقین کے رنگ میں دلوں کو خدا کی طرف پھیرے گا۔منارہ کی تیاری کے بعد ہوگا کیونکہ منارہ اس بات کے لئے علامت ہوگا کہ وہ لعنت کی تاریکی جو شیطان کے ذریعہ سے دنیا میں آئی ہے وہ مسیح موعود کے منارہ کے ذریعہ سے یعنی نور کے ذریعہ سے دنیا سے مفقود ہو اور منارہ بیضاء کی طرح سچائی چمک اٹھے اور اونچی ہو، خدا کے بعض جسمانی کام اپنے اندر روحانی اسرار رکھتے ہیں پس جیسا کہ توریت کے رو سے صلیب پر چڑھنے والالعنت سے حصہ لیتا تھا ایسا ہی منارۃ اسیخ پر صدق اور ایمان سے چڑھنے والا رحمت سے حصہ لے گا۔اور یہ جولکھا ہے کہ منارہ کے قریب مسیح کا نزول ہوگا ، اس کے معنوں میں یہ بات داخل ہے کہ اسی زمانہ میں جب کہ منارہ طیار ہو جائے گا مسیحی برکات کا زور وشور سے ظہور و بروز ہو گا۔اور اسی ظہور و بروز کونزول کے لفظ سے بیان کیا گیا ہے پس جو لوگ اس عظیم الشان سعادت سے حصہ لیں گے یہ تو مشکل ہے کہ ان سب کے نام منارہ پر لکھے جائیں لیکن یہ قرار دیا گیا ہے کہ بہر حال چند مہاجرین کے مقابل پر ایسے تمام لوگوں کے نام لکھے جائیں گے جنہوں نے کم سے کم سو روپیہ منارہ کے چندہ میں داخل کیا ہو اور یہ نام ان کے زمانہ دراز تک بطور کتبہ کے منارہ پر کندہ رہیں گے جو آئندہ آنے والی نسلوں کو دعا کا موقعہ دیتے رہیں گے۔“ بعد ازاں حضرت اقدس نے ایک سود و مخلصین کے اسماء درج فرمائے ہیں کہ جن کے اخلاص سے حضور نے اس کارخیر میں کم از کم سو روپیہ دینے کی توقع ظاہر کی اور بعض دے چکے تھے اس فہرست میں پہلے نمبر پر حضرت مولوی نورالدین صاحب کا اور دوسرے نمبر پر نواب محمد علی خاں صاحب رئیس مالیر کوٹلہ کا نام درج ہے۔اور منارہ اسیح پر چھٹے نمبر پر نواب صاحب کا نام انہی الفاظ میں درج ہے اور آپ سے پہلے حضرت مسیح موعود علیہ السلام، حضرت خلیفتہ اسی اول ، حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ ، حضرت ام المؤمنین