اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 456 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 456

456 66 ۳۲۷ اپنے مالوں کو فدا کریں گے۔خدا تعالیٰ ہر ایک کے عملوں کو دیکھتا ہے مجھے کہنے اور لکھنے کی ضرورت نہیں۔سفر نصیبین کے اخراجات کے تعلق میں پانچ ہفتہ قبل حضور ۲۹ راگست ۱۸۹۹ء کو نواب صاحب کو ذیل کے الفاظ میں تحریک فرما چکے تھے۔”مرزا خدا بخش کو نصیبین بھیجنے کی پختہ تجویز ہے۔خدا تعالیٰ کے راضی کرنے کے کئی موقعے ہوتے ہیں جو ہر وقت ہاتھ نہیں آتے۔کیا تعجب کہ خدا تعالیٰ آپ کی اس خدمت سے آپ پر راضی ہو جاوے اور دین اور دنیا میں آپ پر برکات نازل کرے کہ آپ چند ماہ اپنے ملازم خاص کو خدا تعالیٰ کا ملازم ٹھہرا کر اور بدستور تمام بوجھ اس کی تنخواہ اور سفر خرچ کا اپنے ذمہ پر رکھ کر اس کو روانہ نصیبین وغیرہ ممالک بلا دشام کریں۔میرے نزدیک یہ موقعہ ثواب کا آپ کے لئے وہ ہوگا کہ شاید پھر عمر بھر ایسا موقعہ ہاتھ نہ آوے۔بعد ازاں ۴ را کتوبر ۹۹ ء کے اشتہار میں حضرت اقدس تحریر فرماتے ہیں کہ ۳۲۸ ایسا اتفاق ہوا ہے کہ مرزا صاحب موصوف کا تمام سفر خرچ ایک مخلص با ہمت نے اپنے ذمہ لے لیا ہے اور وہ نہیں چاہتے کہ ان کا نام ظاہر کیا جائے۔مگر دو اور آدمی ہیں جو مرزا خدا بخش صاحب کے ہم سفر ہوں گے ان کے سفر خرچ کا بندو بست قابل انتظام ہے۔“ معلوم ہوتا ہے کہ مخلص با ہمت دوست حضرت نواب صاحب ہی تھے۔آپ نے مرزا صاحب کے دونوں رفقا کے اخراجات برداشت کرنے کے متعلق بھی تحریر کیا۔چنانچہ حضرت اقدس ۹ نومبر ۱۸۹۹ء کونواب صاحب کو تحریر فرماتے ہیں۔الله مجی عزیزی اخویم نواب محمد علی خاں صاحب سلمہ۔السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکانہ۔پانچ سوروپے کا نوٹ اور باقی روپیہ یعنی پچھتر روپے پہنچ گئے۔جزاکم اللہ خیر الجزاء۔دو آدمی جونصیبین میں برفاقت مرزا خدا بخش صاحب بھیجے جائیں گے ان کے لئے پانچ سو روپیہ کی ضرورت ہوگی۔لہذا (حسب ) تحریر آں محبّ اطلاع دی گئی ہے کہ پانچ سو رو پید ان کی روانگی کے لئے چاہئے۔مجھے یقین ہے کہ نومبر ۱۸۹۹ ء تک آں محبّ تشریف لائیں گے۔باقی سب خیریت ہے۔والسلام خاکسار مرزا غلام احمد قادیان ٣٢٩ اشتہار و مکتوب کی عبارات سے ظاہر ہے کہ مرزا خدا بخش صاحب کے دونوں رفقاء سفر کے اخراجات یہ خطوط وحدانی کا لفظ خاکسار مؤلف کتاب ہذا کی طرف سے ہے۔