اصحاب احمد (جلد 2) — Page 433
433 یہ سعادت میری قسمت میں تھی۔میں ان کو منصوری لے گیا اور مرہم پٹی کرنا میں نے سیکھ لیا اور میں خود ہی ان کی مرہم پٹی کرتا تھا۔میں نے ان کی بہت خدمت کی جس کی وجہ سے وہ مجھ سے بہت خوش تھیں چند ماہ کے بعد مالیر کوٹلہ واپس آئے اس وقت زخم بہت بڑھ چکا تھا۔دراصل یہ سرطان کا پھوڑا تھا۔اور اس میں سے مواد نکلتا رہتا تھا۔اسی تکلیف کی حالت میں نواب احسان علی صاحب نے ایک دفعہ ان سے کہا پھوپھی ! آپ نے بیعت کر کے کیا لیا۔اس کے بعد آپ پر مصیبت پر مصیبت آئی تو آپ اٹھ کر بیٹھ گئیں اور کہنے لگیں کہ تم کہتے ہو کہ میں نے محمد علی خاں کی وجہ سے بیعت کر لی ہے۔محمد علی خاں نے ۱۸۹۰ء میں بیعت کی اور ہمیں سمجھاتے رہے لیکن میں نے مرزا صاحب کو قبول نہ کیا۔پھر وہ یہاں سے چلے گئے۔اور ایک لمبا عرصہ باہر رہے پھر بھی میں نے قبول نہ کیا۔اس کے بعد میں نے علماء کو بلا کر مباحثہ کرایا تم اس کے صدر تھے۔پھر خواب کی تحریک سے میں نے حق قبول کیا۔اور میں نے قادیان جا کر دیکھا کہ خلیفہ صاحب کی چار بیویاں ہیں ان کا سلوک ان سے ایسا عمدہ ہے کہ یہاں کوئی خیال بھی نہیں کر سکتا۔میں نے یہاں بیگمات کا حال دیکھا ہے جس میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔بوصاحبہ کی وفات پر معزز الفضل رقم طراز ہے۔یہ خبر نہایت افسوس کے ساتھ سنی جائے گی کہ حضرت نواب محمد علی خاں صاحب آف مالیر کوٹلہ کی ہمشیرہ صاحبہ جو کچھ عرصہ سے علیل تھیں ۱۳ تاریخ فوت ہو گئیں۔إِنَّا للهِ وَإِنَا إِلَيْهِ رَاجِعُون۔چند سال ہوئے مرحومہ مغفورہ نہایت تحقیق اور تدقیق کر کے احمدیت میں داخل ہوئی تھیں اور آخر وقت تک سلسلہ سے نہایت اخلاص اور محبت کا اظہار کرتی رہیں۔حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے ۱۵ جنوری ۱۹۲۶ ء بعد نماز جمعہ ان کا جنازہ غائب پڑھنے کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا ” آج میں جمعہ کی نماز کے بعد نواب صاحب کی ہمشیرہ صاحبہ کا جو مالیر کوٹلہ میں فوت ہوگئی ہیں جنازہ پڑھوں گا۔نواب صاحب نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ چونکہ مالیر کوٹلہ میں ان کا جنازہ پڑھنے والی جماعت احمد یہ تھوڑی تھی اس لئے ان کا جنازہ پڑھا جائے مگر ان کا جنازہ میں اس وجہ سے نہیں پڑھنے لگا۔اگر وہاں بڑی جماعت ہوتی تو بھی میں ان کا جنازہ غائب پڑھتا کیونکہ وہ نواب صاحب کی رشتہ دار تھیں۔اور نواب صاحب میرے رشتہ دار ہیں اور اسلام نے رشتہ داروں کے حقوق رکھے بقیہ حاشیہ کو صدمہ پہنچ گیا اور آخر کا ر ڈیلے کا آپریشن کرنا پڑا جس کے سبب سے آنکھ جاتی رہی اور اب تک زخم خفیف ہے۔۔۔ابھی سلسلہ تھا کہ گھر میں ان کے گلے کی گلٹیوں کا آپریشن کرنا پڑا جو کوئی ڈیڑھ سال سے تھیں۔