اصحاب احمد (جلد 2) — Page 432
432 بوصاحبہ موصوفہ کا تقویٰ محترمه بوفاطمہ بیگم صاحبہ اگر چہ ظاہری علم سے بے بہرہ تھیں لیکن بہت سمجھ دار اور دانا خاتون تھیں نیکی اور تقویٰ کے لحاظ سے مالیر کوٹلہ کی بیگمات میں ممتاز تھیں عام طور پر رویائے صالحہ سے بھی مشرف ہوتی تھیں (م) مکرم عرفانی صاحب فرماتے ہیں کہ مرحومہ احمدیت میں داخل ہونے کے بعد اشاعت سلسلہ اور قرآن مجید سے محبت کرتی تھیں اسی مقصد کے لئے انہوں نے سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کو ( جو قرآن کریم کا ایک خاص فہم رکھتی تھیں اور ایک زمانہ میں اس قرآن فہمی کی وجہ سے حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہا نے ان سے نکاح کرنا چاہا تھا ) اپنے پاس بلا کر رکھا۔وہ قرآن مجید کا درس دیتی تھیں اور بوفاطمہ بیگم رضی اللہ عنہ ان کا خاص احترام کرتی تھیں آہ ! ۱۹۴۷ء کے انقلاب کے بعد جموں میں ان کے خاندان کو شہید کر دیا گیا۔صرف ان کا ایک پوتا بچا سیده مریم شیخ محمود احمد صاحب عرفانی مرحوم و مغفور کی بیوی کی نانی تھیں۔اللهم ارحمهما واوسع مرقدهما۔آمین۔بوصاحبہ موصوفہ کی استقامت یہ حقیقت ہے کہ الاستقامة فوق الكرامة موصوفہ کے متعلق محترم میاں محمد عبد اللہ خاں صاحب موصوف کا بیان ہے کہ ان کو احمدیت کے قبول کرنے کے بعد بہت ابتلاء بھی آئے لیکن ان کے پائے ثبات میں مطلقاً لغزش نہیں آئی بیعت کے چند ماہ بعد ان کے خاوند فوت ہو گئے اور عدت کے اندر ان کی دائیں آنکھ پر چھوٹی سی گلٹی نکل آئی پہلے یہ سمجھا گیا کہ شاید رونے کی وجہ سے ایسا ہو گیا ہے اور علاج کرنے سے زخم مندمل ہو گیا۔زخم مندمل ہونے پر عدت کے بعد پہلی بار قادیان آئیں کہ اس سے پہلے خاوند کی خدمت وغیرہ کی وجہ سے موقعہ میسر نہ آسکا تھا۔یہاں زخم زیادہ ہو گیا * اور یہ رائے قرار پائی کہ پہاڑ پر انہیں لے جائیں۔چنانچہ نواب صاحب ۲۴-۸-۱۶ کے مکتوب میں مکرم سید بشارت احمد صاحب امیر جماعت حیدر آباد دکن کو تحریر فرماتے ہیں۔۲۷ دسمبر ۲۳ء کو میرے بہنوئی کا انتقال ہو گیا بہن جو میری حقیقی بہن ہیں۔ان کے وہ خاوند تھے اس اچانک حادثہ سے میری بہن علیل ہو گئیں اور ساڑھے چار ماہ تک ان کو حرارت ہوتی رہی۔اس سے کسی قدر افاقہ ہوا۔تو ایک خفیف آپریشن آنکھ کی پلک پر کرنا پڑا مگر اس سے ایسا فساد بڑھا کہ پندرہ بیس روز کے بعد آنکھ نا