اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 422 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 422

422 روز تک استخارہ کرتے رہے اور حضرت اقدس کی خدمت میں اس بارہ میں شرح صدر ہونے کے لئے دعا کے لئے بھی عرض کیا اور پھر مضمون لکھنا شروع کیا۔یہ معلوم نہیں ہو سکا آیا یہ مضمون پایہ تکمیل کو پہنچ کر ڈاک میں بھیجا گیا یا بصورت اشتہار شائع ہوا۔اس مضمون کے متعلق ۲۴ / جنوری ۹۸ ء سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ ابھی لکھ رہے تھے لیکن ۲۸ رجنوری کے بعد کی ڈائری نہیں مل سکی غالباً اس سال پھر ڈائری ہی نہیں لکھی۔التبہ مولوی محمد حسین صاحب کے تعلق میں ۹۸ ء کے اواخر میں حضرت نواب صاحب نے ایک اشتہار دینا چاہا جس میں حضرت مولوی نورالدین صاحب اور ان کے ساتھیوں کی طرح مولوی محمد حسین صاحب کو مباہلہ کے لئے آمادہ کرنے کا ارادہ تھا۔لیکن معلوم نہیں ہو سکا آیا یہ اشتہار بھی شائع ہوا تھا یا نہیں۔اس اشتہار کے شائع کرنے کا ارادہ نواب صاحب کے نام حضرت اقدس کے ۱۸ نومبر ۹۸ ء کے مکتوب سے معلوم ہوتا ہے جس میں حضور رقم فرماتے ہیں۔اور آپ نے جو پانچ ہزار روپیہ لکھا ہے میرے نزدیک آپ کا دوسروں کے ساتھ شامل ہونا عمدہ طریق نہیں بلکہ مناسب یہ ہے کہ آپ علیحدہ طور پر اشتہار دیں کہ چونکہ مسلمانوں میں تفرقہ بڑھتا جاتا ہے اور اس طرح قوم میں ضعف پیدا ہوتا جاتا ہے اس لئے میں نے یہ تجویز سوچی ہے کہ مولوی محمد حسین بٹالوی جو بانی مبانی اس تفرقہ کے ہیں شخص مدعی سے مباہلہ کر لیں الہام کا مدعی جب کہ ایک سال کی مہلت الہام کی بناء پر پیش کرتا ہے تو وہی مہلت قبول کر لیں اگر اس مدت میں شخص مدعی ہلاک ہو گیا یا کسی اور ذلیل عذاب میں مبتلا ہو گیا تو خود جماعت اس کی بے اعتقاد ہو کر متفرق ہو جائے گی اور اس طرح پر قوم میں سے فتنہ اٹھ جائے گا اور اس صورت میں محض نیک نیتی اور ہمدردی قوم کی وجہ سے ہم وعدہ کرتے ہیں کہ مبلغ پانچ ہزار روپیہ مولوی محمد حسین صاحب کو بطور نذر کے دیں گے۔اور ان کے لئے دو خوشیاں ہوں گی کہ دشمن مارا اور روپیہ ملا۔لیکن اگر اس سال کے عرصہ میں جو مباہلہ کے دن سے شمار کیا جائے گا کوئی بلا مولوی صاحب پر نازل ہوئی تو پھر سمجھنا چاہئے کہ مولوی صاحب اس جنگ و جدل میں حق پر نہیں ہیں تو اس صورت میں قوم کو شخص مدعی کی طرف بصدق دل رجوع کرنا چاہئے۔یہ فیصلہ خدا کے ہاتھ میں ہے ممکن نہیں کہ بغیر ارادہ الہی کے کوئی شخص یوں ہی مارا جاوے۔غرض یہ اشتہار آپ کی طرف سے ہونا چاہئے امید کہ بڑا مؤثر ہوگا۔اگر آپ اشارہ فرماویں تو اسی جگہ چھاپ دیا جائے۔جلد مطلع فرمایا جاوے۔“ ۲۹۵ حضرت اقدس کے ذیل کے مکتوب سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور کی خدمت میں نواب صاحب نے ایک مضمون مکمل کر کے بھیجنا تھا۔حضور تحریر فرماتے ہیں۔مجی اخویم نواب صاحب سلمہ۔السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ۔کچھ مضائقہ نہیں آں محب مالیر کوٹلہ سے مضمون مکمل کرنے کے بعد ارسال فرما دیں اگر دو ہفتہ تک تاخیر ہو جائے تو کیا حرج ہے اور علیحدہ پر چہ میں نے