اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 399 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 399

399 پر ناراض کیا ہے گویا انہوں نے میرے پاس آپ کی شکایت کی ہے اور آپ کی کسر شان کی غرض سے کچھ الفاظ کہے ہیں۔مجھے اس امر سے سخت ناراضگی حاصل ہوئی اور عجیب یہ کہ آپ نے ان پر اعتبار کر لیا ایسے لوگ در اصل بد خواہ ہیں نہ کہ مفید۔میں اس بات کا گواہ ہوں کہ مرزا خدا بخش کے منہ سے ایک لفظ بھی خلاف شان آپ کے نہیں نکلا اور مجھے معلوم ہے کہ وہ بیچارہ دل و جان سے آپ کا خیر خواہ ہے اور غائبانہ دعا کرتا ہے اور مجھ سے ہمیشہ آپ کی دعا کے لئے تاکید کرتا رہتا ہے اور چاہتا ہے کہ یہ چند روزہ زندگی آپ کے ساتھ ہو۔رہی یہ بات کہ مرزا خدا بخش ایک بے کا رہے یا آج تک اس سے کوئی کام نہیں ہو سکا۔یہ قضا و قدر کا معاملہ ہے انسان اپنے لئے خود کوشش کرتا ہے اور اگر بہتری مقدر میں نہ ہو تو اپنی کوشش سے بھی کچھ نہیں ہوسکتا۔ایسے انسانوں کے لئے جو ایک بڑا حصہ عمر کا خدمت میں کھو چکے ہیں اور پیرانہ سالی تک پہنچ گئے ہوں میرا تو یہی اصول ہے کہ ان کی مسلسل ہمدردیوں کو فراموش نہ کیا جائے۔کام کرنے والے مل جاتے ہیں مگر ایک سچا ہمدرد انسان حکم کیمیا رکھتا ہے وہ نہیں ملتا۔ایسے انسانوں کے لئے شاہان گزشتہ بھی دست افسوس ملتے رہے ہیں اگر آپ ایسے انسانوں کی محض کسی وجہ سے بے قدری کریں تو میری رائے میں ایک غلطی کریں گے۔یہ میری رائے ہے جو میں نے آپ کی خدمت میں پیش کی ہے اور آپ ہر ایک غائبانہ بد ذکر کرنے والوں سے بھی چوکس رہیں کہ حاسدوں کا وجود دنیا میں ہمیشہ بکثرت ہے۔والسلام مکرر یاد دلاتا ہوں کہ میرے کہنے سے مرزا خدابخش چند روز کے لئے لاہور میرے ساتھ آئے خاکسار مرزا غلام احمد ۲۸۱ تھے۔“ ( مکتوب نمبر ۹۰) چونکہ حضرت اقدس ملازموں کے لئے آقا کے آقا تھے۔اس لئے خواہ اپنا ہی قصور ہو۔برخواستگی وغیرہ کے موقعہ پر حضرت اقدس کی شفقت کی پناہ ڈھونڈتے تھے اس لئے بسا اوقات نواب صاحب ایسے مراحل پر کوئی قدم اٹھانے سے قبل استصواب کر لیتے تھے۔چنانچہ ایک ملازم کے متعلق جوابا حضور نے رقم فرمایا کہ ” (اس) کو اس نوکری کی پرواہ نہیں ہے ورنہ باوجود اس قدر بار بار لکھنے کے کیا باعث کہ جواب تک نہ دیا۔اس صورت میں آپ کو اختیا ر ہے جس کو چاہیں مقرر کر دیں اور یہ بھی آپ کی مہربانی تھی ورنہ نوکروں کے معاملہ میں بار بار کہنے کی کیا ضرورت تھی۔“ ( مکتوب نمبر ۶۵) اسی طرح ایک ملازم کے متعلق جوابا تحریر فرمایا کہ ” جب وہ خود استعفاء بھیجتا ہے تو آپ حق ترحم ادا کر چکے اس صورت میں اس کی جگہ بھیج سکتے ہیں آپ پر کوئی اعتراض نہیں کہ آپ نے موجودہ حالت کے لحاظ سے یہ انتظام کیا ہے۔“ مکتوب نمبر ۶۶۔اسی طرح مکتوب نمبر۲ سے بھی اسی مضمون پر مشتمل ہے۔