اصحاب احمد (جلد 2) — Page 398
398 کا خیال رہتا تھا اور اس کا ماہوار وظیفہ مقرر کر دیا تھا۔اور اس کے علاوہ بھی جب آتی تھی امداد فرماتے تھے۔ان ایام میں ( کہ ) نواب صاحب خود سخت بیمار تھے سنا کہ وہ اپنی کوٹھڑی میں اکیلی پڑی ہے اس کا کوئی پرسان حال نہیں مکرم میاں محمد عبد اللہ خاں صاحب کو بلایا اور کہا کہ اسے ہسپتال میں داخل کرایا جائے جو خرچ ہوگا میں ادا کروں گا۔اور اس کی نگرانی کے لئے کوئی عورت مقرر کی جائے اور اس کے لئے آپ بہت زیادہ فکر مند تھے ادھر جب حضرت خلیفہ اسی الثانی ایدہ اللہ کو تہ لگاکہ وہ بیمار ہے اور اس کی تیمار داری ٹھیک طور پر نہیں ہورہی تو آپ نے دورو پید روز پر ایک عورت کو تیمارداری کے لئے مقرر کر دیا۔دارا مسیح میں ہی بیمار رہی اور فوت ہوئی اور بہشتی مقبرہ میں مدفون ہوئی۔غوناں مرحومہ اتنی وفادار تھی کہ اس کی نظیر مشکل ہے اپنے آقا اور ان کی اولاد سے بے انتہا محبت اس کو تھی۔حضرت مسیح موعود اس پر بوجہ اس کے مرض کے بے حد شفقت فرماتے تھے اور اس کی وفاداری کو بھی بنظر احسان دیکھتے تھے کہ وہ ہمیشہ حضور کو نواب صاحب کے لئے دعا کی تحریک کرتی رہتی تھی۔(ن) نواب صاحب کے اس حسن سلوک کے باوجود حضرت اقدس بھی ہمیشہ نواب صاحب کو ملازموں سے مزید نرمی کی تاکید مختلف پیرایوں میں کرتے رہتے تھے چنانچہ حضور نے ایک مکتوب میں تحریر فرمایا۔بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم مجی عزیزی اخویم نواب صاحب سلمہ اللہ تعالی۔السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ۔میں اس جگہ آکر چند روز بیمار رہا۔آج بھی بائیں آنکھ میں درد ہے باہر نہیں جاسکتا۔ارادہ تھا کہ اس شہر کے مختلف فرقوں کو سنانے کے لئے کچھ مضمون لکھوں ڈرتا ہوں کہ آنکھ کا جوش زیادہ نہ ہو جائے۔خدا تعالیٰ فضل کرے۔مرزا خدا بخش کی نسبت ایک ضروری امر بیان کرنا چاہتا ہوں۔گو ہر شخص اپنی رائے کا تابع ہوتا ہے۔مگر میں محض آپ کی ہمدردی کی وجہ سے لکھتا ہوں کہ مرزا خدا بخش آپ کا سچا ہمدرداور قابل قدر ہے اور مجھے معلوم ہوا ہے کہ کئی لوگ جیسا کہ ان کی عادت ہوتی ہے اپنی کمینہ اغراض کی وجہ سے یا حسد سے یا محض سفلہ پن کی عادت سے بڑے آدمیوں کے پاس ان کے ماتحتوں کی شکایت کر دیتے ہیں۔جیسا کہ میں نے سنا ہے کہ ان دنوں میں کسی شخص نے آپ کی خدمت میں مرزا خدا بخش صاحب کی نسبت خلاف واقعہ باتیں کہ کر آپ کو ان غوثاں زوجہ مددخاں صاحب قطعہ احصہ نمبر قبر نمبر ۵ میں اور غوثاں زوجہ میاں نور محمد قطعہ نمبر ۸ حصہ نمبر ۱۴ قبر نمبر میں دفن ہیں۔مؤخر الذکر ابتدائی موصوں میں سے تھیں چنانچہ ان کا نمبر وصیت ۲۹۹ ہے۔۲۰ دسمبر ۱۹۴۲ء کو فوت ہوئیں۔رضی اللہ عنہم۔