اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 395 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 395

395 کہتے رہے کہ آپ آگے آجائیں۔اسی طرح ایک عید کے موقعہ پر پرانی عیدگاہ میں دیکھا کہ گھاس پھوس پر ایک معمولی قالین یا دری پر بیٹھے ہیں کئی بار مجھے مصافحہ کرنے کا موقعہ ملا۔بہت ہی تواضع اور عزت سے مصافحہ کرتے۔ان میں نوابوں والا کبر اور بڑائی نہیں تھی۔مکرم چوہدری نور احمد خاں صاحب آف سٹروعه ( صحابی ) پنشنر کارکن صدرانجمن احمد یہ سناتے ہیں کہ حضرت نواب صاحب جب صدر انجمن احمدیہ کے سیکرٹری تھے تو میں کوٹھی پر بھی کا غذات دکھانے کے لئے لے جاتا۔آپ ہمیشہ مجھے کرسی پر بٹھاتے اور بعد فراغت باغ میں چہل قدمی کے لئے ساتھ لے جاتے اور بے تکلفی سے اپنے خاندان کے حالات سناتے اور احمدیت کا تذکرہ فرماتے۔مکرم میاں محمد عبد الرحمن خاں صاحب بیان کرتے ہیں کہ مجھے یاد ہے مسجد مبارک بہت چھوٹی سی تھی وہاں لوگ نماز پڑھنے آتے تھے آپ نے کبھی یہ امتیاز نہیں کیا کہ فلاں امیر ہے فلاں غریب۔میلے سے میلے کپڑوں والے آدمی کے پاس بھی کھڑے ہو جاتے تھے بلکہ اگر کوئی فاصلہ چھوڑ کر کھڑا ہوتا تو آہستہ آہستہ اس کے قریب ہو جاتے۔اگر غریب سے غریب اور ادنیٰ سے ادنی کی پوزیشن کا کبھی کوئی آدمی بات پیش کرتا تو نہایت محبت اور پیار سے پیش آتے۔کلام میں درشتی کا نام ونشان نہ تھا اور احسان کر کے بعد میں جتایا نہیں کرتے تھے۔طبیعت میں خود داری تھی مگر نخوت اور تکبر پاس بھی پھٹکنے نہ پایا تھا۔اپنی پوزیشن قائم رکھتے۔مگرا میروں کی نسبت غریبوں سے مل کر زیادہ خوشی محسوس کرتے۔طبیعت میں بالعموم نرمی تھی۔مدرسہ میں جو کلیتہ آپ کے اختیار میں تھا ڈانٹ ڈپٹ سے ہمیشہ احتر از فرماتے تھے۔“ ایک دفعہ حضرت خلیفہ اسی اول نے بیان کیا کہ نبی پر ابتداء میں غریب ہی ایمان لاتے ہیں۔باہر سے ایک ایڈیٹر اخبار یا رسالہ آئے ہوئے تھے انہوں نے کہا کہ آپ کے ہاں تو ایک نواب صاحب بھی آئے ہوئے ہیں۔آپ نے فرمایا کہ ان کو جا کر دیکھیں اس نے دیکھا اور بیان کیا کہ واقعی وہ غریب طبع ہیں، نوابوں والا کروفران میں نہیں (م) ڈاکٹر ٹی۔ایل۔پینل۔ڈی۔ڈی بنوں صوبہ سرحد میں چرچ مشنری سوسائٹی کی طرف سے متعین تھے اور کافی عرصہ تک سرکاری اور آزاد علاقہ میں تبلیغ مسیحیت کا کام کرتے رہے۔سائیکل پر انہوں نے سارے مذکورہ بالا ایڈیٹر کے متعلق مکرم عرفانی صاحب فرماتے ہیں کہ ”مولوی ریاض الدین ان کا نام تھا ان کو مدر سے جاری کرنے کا شوق تھا۔مجھے یاد نہیں الحکم میں ان کا واقعہ چھپا تھا۔“