اصحاب احمد (جلد 2) — Page 385
385 کہ اب آئندہ جو حضور فیصلہ کر دیں پردہ وغیرہ ( کے متعلق ) یعنی کس سے کرنا ہے اور کس سے نہیں اور بھی جو حکم دیں گے اختلافی مسائل میں اسی پر عمل تم نے کرنا ہوگا۔اب میں نے اپنا ہر ذاتی خیال بالکل ان پر چھوڑ دیا ہے ،شروع خلافت کے ایام میں کہا کرتے تھے کہ میاں صاحب نبوت کا دعوی بھی کر دینگے تو میں ابھی سے تیار ہوں کہ انشاء اللہ ایمان لاؤں گا۔یہ لوگ تو خلافت پر ہی چیخ اٹھے ہیں یہ جو ہر قابل کو پر کھ نہیں سکتے (اور بھی اسی قسم کے صاف صاف الفاظ ) مگر جب تک کوئی دعویٰ نہیں ہوتا ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔مصلح موعود کے دعویٰ پر بے حد خوش ہوئے تھے۔“ علمی مذاق۔علماء کی تکریم آپ اعلیٰ درجہ کے علمی مذاق کے مالک تھے۔علم دوست ہونے کی وجہ سے آپ کو ہرقسم کی کتابیں رکھنے کا بے حد شوق تھا اور کتابوں سے بہت ہی محبت تھی آپ کے ہاں ایک اچھی خاصی لائبریری تھی جو افسوس کہ فسادات ۱۹۴۷ء کی نذر ہو گئی آپ قابل اور عالم اشخاص کی عزت کرتے اور محبت سے پیش آتے اور ان کی محبت سے خوش ہوتے اور ان کی خوب قد رو تکریم کرتے۔چنانچہ مکرم میاں محمد عبد اللہ خاں صاحب بیان کرتے ہیں کہ حضرت حافظ روشن علی صاحب کو اپنے پاس ملازم رکھا ہوا تھا۔ان کو پانچ روپے سے پچاس روپے تک ترقی دی۔حضرت امیر المؤمنین خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے حضرت نواب صاحب سے کہا کہ صرف چند بچوں کو پڑھانے کی مشغولیت سے حافظ صاحب کی قابلیت ضائع جارہی ہے۔سلسلہ ان سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتا ہے۔آپ انہیں سلسلہ کے سپرد کر دیں۔نواب صاحب نے فوراً ان کا مشاہرہ پچاس سے نوے روپے کر دیا تا کہ صدر انجمن احمد یہ آپ کو لے تو مشاہرہ نوے روپے سے شروع کرے۔آپ حافظ صاحب کو ملازم نہیں خیال کرتے تھے اور بے حد عزت کرتے تھے اور ان کو اپنے ساتھ ہی وابستہ رکھنا چاہتے تھے مگر حضور ایدہ اللہ کے حکم سے صدرانجمن کی طرف منتقل کیا۔حافظ صاحب کی علیحدگی پر آپ ہمیشہ ہی متاسف رہتے تھے اور آپ کے اور حافظ صاحب کے مابین ہمیشہ ہی انس و محبت کا علاقہ قائم رہا۔مکرم مفتی محمد صادق صاحب فرماتے ہیں۔" مرحوم علمی مذاق کے انسان تھے۔اعلیٰ درجہ کی علمی اخلاقی دینی کتابیں ہمیشہ منگواتے رہتے اور ان کے کتب خانہ میں رہتیں ان میں سے بہت سی کتابیں انہوں نے مرکزی لائبریری کو بھی عطا کیں چنانچہ بڑی انسائیکلو پیڈیا ۲۵ جلد والی جو اس وقت