اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 362 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 362

362 مخالف موجودہ طرز کی انجمنوں کا یعنی جو باتباع قواعد یورپ ہیں میں یعنی خاکسار راقم الحروف ہے جس کا ایمان ہے کہ انجمنوں کا قیام نفاق کے بغیر نہیں رہ سکتا اس لئے یہ مسلمانوں کے لئے ناموافق ہیں اور یہ ایمان انجمنوں میں رہ کر خود انجمنیں بنا کر اور ان کے سیکرٹری وغیرہ رہ کر تجربہ کے بعد حاصل ہوا۔مگر چونکہ یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قائم کی ہے اس لئے میں اس کے قیام کو ضروری سمجھتا ہوں اور دراصل ایک طرح اس انجمن کا بانی بھی میں ہی ہوں شاید آپ کو معلوم نہ ہو کہ الوصیت سے چند روز پہلے میں نے تحریک کر کے ایک مجمع کرایا تھا اور اس میں یہ تجویز ہوئی تھی کہ ایک صدر انجمن ہو۔اور اس کی شاخیں تمام اضلاع میں ہوں اور آخر اس کے لئے تصفیہ ہوا تھا (ابھی اس انجمن کے متعلق تصفیہ نہ ہوا تھا ) کہ حضرت اقدس نے الوصیت تحریر فرمائی۔اور ایک کمیٹی چودہ آدمیوں کی بہشتی مقبرہ کے انتظام کے لئے مقرر فرمائی دیکھ لیجئے الوصیت۔مگر میں (نے) مولوی محمد علی صاحب صاحب اور خواجہ صاحب سے کہا کہ کیوں نہ درخواست کی جائے کہ تمام انتظام دیگر مدات بھی اسی کے سپرد ہوں اور وہ انجمن جو ہم بنانا چاہتے تھے وہ اس طرح قائم ہو جائے چنانچہ ہم نے قواعد بنا کر حضرت اقدس سے دستخط کرالئے۔پس یہ ہمارا وہم بھی نہیں جاتا کہ انجمن کو تو ڑا جائے اور نہ میاں صاحب کا کبھی یہ خیال ہوا اور نہ ہے کہ انجمن توڑی جائے اور اب بھی اس طرح انجمن چل رہی ہے۔ہاں میں نے اس وقت جب قواعد انجمن بن رہے تھے یہ کہا تھا کہ یورپین طرز کی انجمن ( نہ ) بناؤ بلکہ مجلس شوری ہو۔اور پھر میں نے ہی کانفرنس کی تجویز کی تھی۔سوال تو یہ ہے کہ جو لوگ اپنے آپ کو انجمن کے موید کہتے ہیں اور انجمن کو خلیفہ قرار دیتے ہیں انہوں نے انجمن کو کس قدر قوم کے لئے مفید بنایا ہے جس سے قوم میں اس کی کوئی اہمیت پیدا ہوا ؟ انجمن محض ایک چندہ وصول کرنے والی اس وقت ہے۔ہم جن کو انجمن توڑنے والا کہا جاتا ہے۔وہ باوجود اختلاف وہ اہمیت انجمن کی قوم میں پیدا کرنا چاہتے ہیں کہ جس سے ایک قوم قوم کہلائے۔ہاں یہ امر ہماری رائے میں خلیفہ کی ماتحتی سے ہوسکتا ہے۔اور اسی لئے انجمن اسی طرح مطیع خلیفہ ہے جس طرح تمام قوم۔اب آپ ذرا بار یک نظری ( سے ) بھی غور فرمائیں۔اور ( یہ ) جماعت اور انجمن کوئی دو چیزیں نہیں۔پھر جب خلیفہ تمام قوم کا مطاع ہوا تو انجمن کیا مطبع نہیں ؟ فرض کرو کہ انجمن اور خلیفہ میں جھگڑا ہے۔خلیفہ اپنے مریدوں سے کہتا ہے کہ تم انجمن کی اطاعت نہ کرو۔پھر بتلاؤ کون ہے جو انجمن کی اطاعت کرے گا؟ دراصل یہ لوگ خلافت اڑانا چاہتے ہیں۔اور خود خلیج الرسن ہونا چاہتے (ہیں) پھر آپ ہی بتلائیں کہ کسی فتنہ کو روکنے والا کون ہوگا؟ مرکز بلا خلیفہ قائم نہیں رہ سکتا۔انجمن جس کو کہا جاتا ہے۔وہاں تو پارٹی فیلنگ اور اختلاف ہے اور یہ ہونا ضروری ہے۔پھر جب تک کسی ایک پر متحد نہ ہوں کس طرح امن سے رہ سکتا ہے؟ افسوس کہ لوگ یورپ کی اندھی تقلید