اصحاب احمد (جلد 2) — Page 308
308 اغراض کے لئے قومی روپیہ ہوتا ہے۔لہذا تم جھوٹے ہو جھوٹ بول کر اس عرصہ دراز تک ہم کو دھوکہ دیتے رہے ہو۔اور آئندہ ہم ہر گز تمہارے دہو کہ میں نہ آویں گی۔پس اب وہ ہم کو روپیہ نہیں دیتیں کہ ہم قادیان بھیجیں۔اس پر خواجہ صاحب نے خود ہی فرمایا تھا کہ ایک جواب تم لوگوں کو دیا کرتے ہو۔پر تمہارا وہ جواب میرے آگے نہیں چل سکتا۔کیونکہ میں خود واقف ہوں۔اور پھر بعض زیورات اور بعض کپڑوں کی خرید کا مفصل ذکر کیا اور مجھے خوب یاد ہے کہ اس طویل سفر میں آتے اور جاتے ہوئے ان اعتراضات کے باعث مجھے ایسا محسوس ہورہا تھا کہ غضب خدا نازل ہو رہا ہے اور میں متواتر دعا میں مشغول تھا۔تیرا غضب جو نازل ہو رہا ہے اس سے مجھے بچانا ‘“ ”جناب کو یاد ہوگا میں نے جناب کو کہا تھا کہ آج مجھے پختہ ذریعہ سے معلوم ہوا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے گھر میں بہت اظہار رنج فرمایا ہے کہ باوجود میرے بتانے کے کہ خدا کا منشاء یہی ہے کہ میرے وقت میں لنگر کا انتظام میرے ہی ہاتھ میں رہے۔اور اگر اس کے خلاف ہوا تو لنگر بند ہو جاوے گا۔مگر یہ ( خواجہ وغیرہ) ایسے ہیں کہ بار بار مجھے کہتے ہیں کہ لنگر کا انتظام ہمارے سپر د کر دو اور مجھ پر بدظنی کرتے ہیں۔“ ۲۴۶ مولوی محمد علی صاحب کا حضرت مسیح موعود کے گھر کو اپنا گھر نہ سمجھنا جب انسان ایک غلطی کا ارتکاب دانستہ یا نادانستہ کرتا ہے اگر چی تو بہ نہ کرے تو وہ اور آگے بڑھتا ہے سو ابتداء تو لنگر وغیرہ کے معاملات میں حضرت اقدس پر معترض ہوئے اور رفتہ رفتہ یہ مرض بڑھتا گیا۔دراصل لنگر کے سوا باقی شعبہ ہائے تعلیم وغیرہ انجمن کے ہاتھ ہی میں تھے وہ اس پر قبضہ کرنا چاہتے تھے اور انتظامی نقائص کے حیلہ کے بغیر اس میں کامیاب نہ ہو سکتے تھے اور یہی ڈھنگ اُنہوں نے اختیار کیا اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ بالآخر جناب مولوی محمد علی صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دار کو جہاں انہوں نے ہر قسم کا آرام اور اکرام پایا اپنا گھر نہ سمجھا۔یہ الفاظ شاید قدرت ان کے منہ سے نکلوارہی تھی۔کیونکہ وہ اُس گھر سے جو ان کے لئے دارالا من رہا نکل جائینگے۔مولوی صاحب نے اپنی اہلیہ کی وفات پر خاندان مسیح موعود کے افراد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تحریر کیا کہ : ہاں سب برابر نہیں ہوتے۔اگر کسی نے میرا احسن ہونے کے باوجود بجائے اظہار غم و ہمدردی کے کسی گذشتہ رنج کا اظہار اس وفات کے وقت کیا تو یہ شاید میرے لئے سبق تھا کہ دنیا کے کسی گھر کو اپنا گھر سمجھنا غلطی ہے۔“ ۲۴۷