اصحاب احمد (جلد 2) — Page 258
258 نکاح کی مبارک تقریب عمل میں آئی۔یہ مبارک رشتہ میرے محسن و مخدوم جناب خان صاحب نواب محمد علی خاں صاحب رئیس اعظم مالیر کوٹلہ کی دختر نیک اختر صاحبزادی زینب بیگم صاحبہ سے ہوا۔اور ایک ہزار روپیہ مہر مقرر بقیہ حاشیہ ناپاک عقائد سے بھاگ کر ان پاک اصول کی طرف اپنا رخ کر رہے ہیں جن کے قائم کرنے کے واسطے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں مبعوث ہوئے تھے۔یہ سب واقعات قرآن شریف کی اس پیشگوئی کی صداقت کو ظاہر کر رہے ہیں کہ إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَفِظُونَ تحقیق ہم نے ہی یہ ذکر نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں جیسا کہ الفاظ کی حفاظت یا دکر نے والوں اور لکھنے والوں کے ذریعہ سے ہوئی۔ویسے ہی معانی کی حفاظت مجہ دوں کے ذریعہ سے ہوئی اور ہورہی ہے یہ سب کچھ موجود ہے مگر خوش قسمت وہی ہے جو ان باتوں سے فائدہ اٹھائے۔جذبات نفس پر قابورکھ کر خدا تعالے کے احکام پر عمل کرے۔مساکین اور یتامیٰ کو مال دیوے قسم قسم کے طریقوں سے رضا جوئی اللہ تعالیٰ کی کرے۔ایک وقت کا عمل دوسرے وقت کے عمل سے بعض دفعہ اتنا فرق رکھتا ہے کہ اوّل مہاجرین نے جہاں ایک مٹھی جو کی دی تھی بعد میں آنے والا کوئی احد پہاڑ کے برابر سونا دیتا تھا تو اس کی برابری نہ کر سکتا تھا۔سائل کو دو، دکھی کو دو، ذوی القربی کو دو، نماز سنوار کر پڑھو۔مسنون تسبیح اور کلام شریف اور دعاؤں کے بعد اپنی زبان میں بھی عرض معروض کرو تا کہ دلوں پر رقت طاری ہو، غریبی میں۔امیری میں مشکلات میں۔مقدمات میں۔ہر حالت میں مستقل رہو اور صبر کو ہاتھ سے نہ دو۔تقویٰ کا ابتدا ء دعا، خیرات اور صدقہ سے ہے اور آخر ان لوگوں میں شامل ہونے سے ہے جن کی نسبت فرمایا إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا جن لوگوں کے کہا کہ ہما را رب اللہ ہے اور پھر استقامت دکھائی۔تقومی کرنے کے متعلق حکم کے بعد یہ حکم ہے کہ وَلَتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ چاہئے کہ ہر ایک نفس دیکھ لے کہ اس نے کل کے واسطے کیا تیاری کی ہے انسان کے ساتھ ایک نفس لگا ہوا ہے۔جو ہر وقت متبدل ہے کیونکہ جسم انسان ہر وقت تحلیل ہو رہا ہے۔جب اس نفس کے واسطے جو ہر وقت تحلیل ہورہا ہے اور اس کے ذرات جدا ہوتے جاتے ہیں اس قدر تیاریاں کی جاتی ہیں اور اس کی حفاظت کے واسطے سامان مہیا کئے جاتے ہیں تو پھر کس قدر تیاری اس نفس کے واسطے ہونی چاہئے جس کے ذمہ موت کے بعد کی جواب دہی لازم ہے اس آنی فنا والے جسم کے واسطے جتنا فکر کیا جاتا ہے کاش کہ اتنا فکر اس نفس کے واسطے کیا جاوے جو کہ جواہد ہی کرنے والا ہے۔اِنَّ اللهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ : اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے آگاہ ہے۔اس آگاہی کا لحاظ کرنے سے آخر کسی نہ کسی وقت فطرت انسانی جاگ کر اسے ملامت کرتی ہے اور گناہوں میں سے گرنے سے بچاتی ہے۔۱۹۳