اصحاب احمد (جلد 2) — Page 257
257 اما بعد۔نہایت مسرت اور دلی انبساط کے ساتھ یہ خبر فرحت افزا شایع کی جاتی ہے کہ ۲۷ / رمضان المبارک ۱۳۲۴ ء ہجری المقدس کو بعد نماز عصر پنجشنبہ کے دن حضرت صاحبزادہ شریف احمد سلمہ اللہ الا حد کے بقیہ حاشیہ: - ملائکہ ہمارے دلوں پر نیکیوں کی تحریک کرتے ہیں جو شخص اس تحریک کو قبول کرتا ہے اور اس پر عمل کرتا ہے۔اس کا تعلق ملائکہ کے ساتھ بڑھ جاتا ہے اور پھر ملائکہ زیادہ سے زیادہ نیک تحریکات کا سلسلہ اس کے دل کے ساتھ لگائے رکھتے ہیں۔جو لوگ شیطان کی تحریک بد کو قبول کرتے ہیں ان کا تعلق شیطان کے ساتھ بڑھ جاتا ہے اور جولوگ ملائکہ کی تحریک نیک پر عمل درآمد کرتے ہیں اُن کا تعلق ملائکہ کے ساتھ بڑھ جاتا ہے۔بیٹھے بیٹھے بغیر کسی بیرونی محرک کے جو انسان کے دل میں ایک نیک کام کے کرنے کا خیال پیدا ہو جاتا ہے اور اس طرف توجہ ہو جاتی ہے وہ فرشتے کی تحریک ہوتی ہے اور جو بد خیال دل میں اچانک پیدا ہو جاتا ہے۔وہ شیطان کی تحریک ہوتی ہے جس طرف انسان توجہ کرے اسی میں ترقی کر جاتا ہے۔ملائکہ پر ایمان لانے کا مطلب یہی ہے کہ جب کسی کے دل میں نیک تحریک پیدا ہو تو فوراً اس نیکی پر عملدرآمد کرے برخلاف اس کے جب بد خیال دل میں آئے تو لا حول پڑھنا یا اعوذ پڑھنا اور بائیں طرف تھوکنا شیطان کی شرارت سے بچاتا ہے کیونکہ شیطان طرف راست سے نہیں آتا وہ راستی کا دشمن ہے بلکہ ہمیشہ طرف چپ سے آتا ہے جو لوگ خدا تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے اور ملائکہ کی نیک تحریکات سے فائدہ حاصل کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی کتاب کو تد بیر کے ساتھ پڑھتے ہیں اور مرسلین کا نیک نمونہ اختیار کرتے ہیں ان کو خدا تعالے صراط مستقیم پر قدم مارنے کی توفیق دیتا ہے اور وہ خدا تعالیٰ کی راہ میں ترقی کرتے ہوئے مکالمہ ومخاطبہ کی نعمت کے حصول تک پہنچ جاتے ہیں۔خدا تعالیٰ کی توحید اور ملائکہ پر ایمان کے بعد تیسری بات ایمان بالآخرۃ ہے۔جزا وسزا کا عقیدہ انسان کے واسطے ترقی کا موجب ہے اور اگر خدا تعالیٰ توفیق دے تو یہ ترقی بتدریج انسان حاصل کر سکتا ہے۔اس زمانہ میں خدا تعالیٰ نے ترقی کے واسطے بہت سے سامان بآسانی مہیا کر دئے ہیں۔دیکھو خدا کا مامور ہمارے سامنے موجود ہے اور خود اس مجلس میں موجود ہے۔ہم اس کے چہرے کو دیکھ سکتے ہیں یہ ایک ایسی نعمت ہے کہ ہزاروں ہزار ہم سے پہلے گذرے جن کی دلی خواہش تھی کہ وہ اس کے چہرے کو دیکھ سکتے پر انہیں یہ بات حاصل نہ ہوئی اور ہزاروں ہزا ر اس زمانے کے بعد آئیں گے جو یہ خواہش کریں گے کہ کاش وہ مامور کا چہرہ دیکھتے۔پر ان کے واسطے یہ وقت پھر نہ آئے گا۔یہ وہ زمانہ ہے کہ عجیب در عجیب تحریکیں دنیا میں زور وشور کے ساتھ ہو رہی ہیں اور ایک ہل چل مچ رہی ہے۔عربی زبان دنیا میں خاص طور پر ترقی کر رہی ہے۔کتابیں کثرت سے شائع ہو رہی ہیں وہ عیسائیت کی عمارت جس کو ہاتھ لگانے سے خود ہمارے ابتدائی عمر کے زمانے میں لوگ خوف کھاتے تھے آج خود عیسائی قو میں اس مذہب کے عقائد سے متنفر ہو کر اس کے برخلاف کوشش میں ایسے سرگرم ہیں کہ يُخْرِبُونَ بُيُوتَهُمْ بِايْدِهِمْ کے مصداق بن رہے ہیں اور شرک کے