اصحاب احمد (جلد 2) — Page 247
247 بھی اسی طرح ہو جائیں گے۔ہمارے خاندان میں رواج ہے کہ ولیمہ کی دعوت نہیں کی جاتی لیکن لڑکی کے والدین برات کی دعوت ضرور کرتے ہیں یعنی اصل کو ترک کر دیا اور رسم کو اختیار کر لیا گیا ہے۔والد صاحب کا یہ خیال تھا کہ لڑکی کے رخصتانہ کے متعلق ہمیں وہی طریق اختیار کرنا چاہئے جو حضرت عائشہ کی شادی پر کیا گیا تھا کہ ان کی والدہ دلہن کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں خود پہنچا آئیں ، بعد میں والد صاحب حضرت حافظ روشن علی صاحب سے تحقیقات کرانے کے بعد اس امر کے قائل ہو گئے تھے کہ برات لے جائی جاسکتی ہے۔اور انصار میں برات کا طریق جاری تھا۔سو والد صاحب اس وقت کی اپنی رائے کے مطابق کوئی برات رخصتانہ کے لئے لے کر نہیں گئے۔بلکہ حضرت اماں جان دلہن کو ساتھ لائیں اور رقت آمیز الفاظ میں نواب صاحب سے کہا کہ میں یہ یتیم بچی آپ کے سپرد کرتی ہوں حضرت سیدہ نواب مبار کہ بیگم صاحبہ فرماتی ہیں کہ : افسوس کہ نکاح کے تھوڑے ہی عرصہ کے بعد اسی سال ۲۶ رمئی ۱۹۰۸ء کو ہم اس سایہ رحمت مجسم سے محروم ہو گئے۔میرا رخصتانه ۱۴/ مارچ ۱۹۰۹ء کو حضرت والده صاحبہ مکرمہ کے ہاتھوں اور حضرت خلیفہ اول کی دعا کے ساتھ نہایت سادگی کے ساتھ عمل میں آیا۔اب میاں (یعنی نواب صاحب) کا اندرون شہر والا مکان بن چکا تھا اور کافی عرصہ سے (آپ) اسی میں مقیم تھے اور وہ بھی تقر یب دار کا ہی حصہ ہے۔کیونکہ حضرت مسیح موعود کی ڈیوڑھی کی ہی زمین پر ہے اور بیچ میں ہی راستہ بھی ہے۔مجھے خود حضرت والدہ اصاحبہ ساتھ لے کر ان کے گھر چھوڑ آئی تھیں اور دروازہ تک حضرت خلیفہ اول بھی آئے تھے ،، 66 اس مبارک تقریب پر معزز الحکم نے ایک خاص پر چہ میں ذیل کا تہنیت نامہ شائع کیا: بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم مبارکباد قران السعدین اللہ تعالیٰ ہی کی حمد اور ستائش ہے جس نے صبر اور نسب کو بنایا اور اس کے رسول پر صلوٰۃ اور سلام ہو جس نے رحمت للعالمین ہو کر دنیا میں صبری رشتوں کی عظمت اور قدر کو قائم کیا اور پھر خدا تعالے اکے اپنے ہاتھ سے معطر کئے ہوئے مسیح موعود اور ہمارے شید و مولی امام پر سلام ہو جس کے نبی اور صہری شرف کے اظہار کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے پاک کلام سے شہادت دی الحمد لله الذي جعل لكم الصهر و النسب یعنی وہ