اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 227 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 227

227 آج آپ تکمیل کر دیں تو گولڑ کی ایک سال کے بعد رخصت ہومگر پیر کے دن نکاح ہو جائے۔یہ ایک قطعی فیصلہ ہے جو میری طرف سے ہے اس میں کسی طرح کمی بیشی نہیں ہوگی۔اس وجہ سے میں نے اس خیال سے اور اسی انتظار سے عزیزی سید محمد اسمعیل ( مراد حضور کے برادر نسبتی حضرت ڈاکٹرمحمد اسمعیل صاحب مولف ) کو پیر کے دن تک ٹھہرالیا ہے۔مگر آپ کی طرف سے اس شرط کی نا منظوری ہوگئی تو پھر وہ کل ہی اپنی نوکری پر چلا جائے گا۔والسلام راقم مرزا غلام احمد عفی عنہ ۱۲ فروری ۱۹۰۸ء ( مکتوب غیر مطبوعہ ) نوٹ: اس خط کا جواب زبانی پیر منظور محمد صاحب حامل خط ہذا کو یہ دید یا تھا کہ مجھ کو بلا عذ رسب کچھ منظور ہے۔محمد علی خاں۔حضور نے نکاح کے موقعہ کے تعلق میں حکیم محمد حسین صاحب قریشی رضی اللہ عنہ کو ذیل کا مکتوب ارسال فرمایا: "بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم مجی اخویم حکیم محمد حسین صاحب قریشی سلمہ اللہ تعالی۔السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔اس وقت رات کا وقت ہے۔میں قیمت نہیں بھیج سکتا۔آپ مفصلہ ذیل کپڑے ساتھ لے آویں۔آپ کے آنے پر قیمت دیدی جاوے گی۔بہر حال اتوار کو آ جائیں والسلام مرزا غلام احمد عفی عنہ ہے تحریراسٹامپ مہر نامہ مہر نامہ جواسٹامپ پر اس بارہ میں ضبط تحریر میں لایا گیا نیز اخراجات وغیرہ کی یادداشتیں درج ذیل کی جاتی ہیں۔یہ سب کچھ تاریخی حیثیت رکھتا ہے۔نیز یہ امر بھی ظاہر ہوتا ہے کہ کام کو پورے حزم واحتیاط سے اور مکتوبات امام بنام غلام۔اس میں پار چات کی فہرست درج نہیں۔ذیل کا نوٹ درج ہے فرماتے ہیں، نوٹ : یہ اس موقعہ پر حضور پر نور نے مجھ خاکسار کو کمال مہربانی سے یاد فرمایا تھا جبکہ صاحبزادی مبارکہ بیگم کے نکاح کی تقریب سعید اگلے روز قرار پا چکی تھی اور الحمد للہ کہ ہم چند خادمان لاہور جن کو حضور نے یا د فرمایا تھا موقعہ پر پہنچ کر اس مبارک تقریب میں شامل ہوئے۔قریشی خاکسار مولف عرض کرتا ہے کہ قریشی صاحب کو مکتوب کی تاریخ کے بارے میں سہو ہوا ہے کہ نکاح سے ایک روز قبل کا ہے کیونکہ نکاح ۷ار فروری ۱۹۰۸ء کو بروز سوموار ہوا اور پارچہ جات خرید کر اتوار کو قادیان پہنچنے کا حضور قریشی صاحب کو ارشاد فرماتے ہیں اس لئے یہ مکتوب نکاح سے ایک روز نہیں بلکہ کم از کم دور وز قبل کا معلوم ہوتا ہے۔