اصحاب احمد (جلد 2) — Page 198
198 مرحومہ کی تدفین مرحومہ کا جنازہ حضور نے دار الضعفاء (ناصر آباد) کے متصل مرزا علی شیر صاحب کی زمین میں پڑھایا تھا اور یہ جگہ میاں شادی خاں صاحب رضی اللہ عنہ کے مکان کے شمال کی طرف ہے جب نعش قبر میں رکھنے لگے تو حضور زمین پر ہی سنگتروں کے لکھتے میں جو کہ بہشتی مقبرہ کے ورلی طرف تھا، بیٹھ گئے ،نواب صاحب بھی وہیں بیٹھے رہے۔مگر حضرت مولوی نورالدین صاحب قبر پر تشریف لے گئے اور جب تک قبر پوری طرح تیار نہ ہو گئی وہیں رہے۔یہ قبراب حضرت اقدس کے مزار والی چار دیواری کے اندر آ گئی ہے۔چنانچہ اسے نقشہ ذیل میں ملاحظہ فرمائیں۔( نقشہ اگلے صفحہ پر ملاحظہ فرمائیں) بقیہ حاشیہ :۔میں نے اس خبر سے سب سے پہلے اپنے گھر کے لوگوں کو مطلع کیا ، اور پھر دوسروں کو اور پھر اخبار بدر اور الحکم میں پیشگوئی شائع کرادی اور یہ اس زمانہ میں خدا تعالیٰ نے مجھے خبر دی تھی جب کہ نواب صاحب موصوف کی بیوی ہر طرح تندرست اور صحیح وسالم تھی ، پھر تخمینا چھ ماہ کے بعد نواب محمد علی خان صاحب کی بیوی کو سال کی مرض ہوگئی۔اور جہاں تک ممکن تھا ان کا علاج کیا گیا۔آخر رمضان ۱۳۲۴ھ میں وہ مرحومہ اسی مرض سے اس نا پائیدار دنیا سے گذر گئیں۔اس پیشگوئی سے نواب صاحب کو بھی قبل از وقت خبر دی گئی تھی اور ہمارے فاضل دوست حکیم مولوی نوردین صاحب اور مولوی سید محمد احسن صاحب اور اکثر معزز اس جماعت کے اس پیشگوئی پر اطلاع رکھتے ہیں۔اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے فلا يظهر على غَيْبِهِ احد الا من ارتضى من رسول یعنی خدا تعالیٰ صاف صاف اور کھلا کھلا غیب بجز اپنے رسولوں کے کسی پر ظاہر نہیں کرتا اور ظاہر ہے کہ دعوی کے ساتھ کسی پیشگوئی کو بتمام تر تصریح شایع کرنا اور پھر اس کا اسی طرح بکمال صفائی پورا ہونا اس سے زیادہ روشن نشان کی اور کیا علامت ہو سکتی ہے" IM۔