اصحاب احمد (جلد 2) — Page 98
98 نواب صاحب نے ایک خط اس تعلق میں ارسال کیا جس کے جواب میں حضور تحریر فرماتے ہیں : نحمده ونصلى على رسوله الكريم بسم الله الرحمن الرحيم مجی عزیزی اخویم نواب صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔اس وقت مجھ کو آپ کا عنایت نامہ ملا۔اس کو پڑھ کر اس قدر خوشی ہوئی کہ اندازہ سے باہر ہے۔مجھے اول سے معلوم ہے کہ نور محمد کی لڑکی کی شکل اچھی نہیں اور نہ ان لوگوں کی معاشرت اچھی ہے۔اگر سادات میں سے کوئی لڑکی ہو جو شکل اور عقل میں اچھی ہو تو اس سے کوئی امر بہتر نہیں۔اگر یہ نہ ہو سکے تو پھر کسی دوسری شریف قوم میں سے ہو۔مگر سب سے اول اس کے لئے کوشش چاہیئے اور جہاں تک ممکن ہوجلد ہونا چاہئے۔اگر ایسا ظہور میں آ گیا تو مولوی صاحب کے تعلقات کو ٹلہ سے پختہ ہو جائیں گے اور اکثر وہاں رہنے کا بھی اتفاق ہوگا۔یہ بڑی خوشی کی بات ہے اور چند ہفتہ میں یہ مبارک کام ظہور میں آئیں تو کیا تعجب ہے کہ یہ عاجز بھی اس کارخیر میں مولوی صاحب کے ساتھ کوٹلہ میں آوے۔سب امر اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے امید کہ پوری طرح آں محب کوشش فرما دیں کیونکہ یہ کام ہونا نہایت مبارک امر ہے۔خدائے تعالیٰ پوری کر دیوے آمین ثم آمین۔ZA پھر حضور نے ۴ ستمبر ۱۸۹۸ء کو مزید تاکید کرتے ہوئے تحریر فرمایا: افسوس کہ مولوی صاحب کے لئے نکاح ثانی کا کچھ بندوبست نہیں ہو سکا۔اگر کوٹلہ میں یہ بندوبست ہو سکے تو بہتر تھا۔آپ نے سن لیا ہوگا کہ مولوی صاحب کی جوان لڑکی چند خوردسال بچے چھوڑ کر فوت ہو گئی ہے۔حضرت سیدہ نواب مبار کہ بیگم صاحبہ فرماتی ہیں کہ 66 مالیر کوٹلہ میں سیدوں کا ایک خاندان تھا جو رئیس خاندان کے پیر کہلاتے تھے۔ان کے خاندان میں سے ایک کو خط حضرت نواب صاحب نے لکھا تھا لیکن کسی جگہ کامیابی نہ ہوئی اور پھر اولا دنرینہ بھی ہونے لگی اس لئے بالآ خر اور شادی کا خیال رہ گیا۔