اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 91 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 91

91 اطال اللہ بقاء ہا کے نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کی ولادت پہ علیل ہونے کے باعث آپ کو بذریعہ تار مارچ میں وہاں سے حضرت اقدس نے بلوالیا سو اس دفعہ آپ کا قیام کم از کم ڈیڑھ ماہ تک رہا۔جی حضرت نواب صاحب کی خواہش تھی کہ حضرت مولوی صاحب جیسے بابرکت وجود سے مستفیض ہوتے رہیں لیکن اس میں روکیں پڑتی رہیں چنانچہ حضرت اقدس اس بارہ میں ۷ ا ا پریل۱۸۹۰ء کو تحریر فرماتے ہیں : بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نحمده نصلى على رسوله الكريم مجی عزیز اخویم نوب صاحب سلمہ تعالی السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔آخر مولوی صاحب 66 شیہ: - کے مکان سے شمال مشرق کی طرف کی سڑک تک جگہ خالی تھی ان ایام میں احباب بھرتی ڈلوا کر مکان بنا لیتے تھے۔میں نے بھی ایسا ہی کیا۔ایک روز میں حضرت مولوی صاحب کے پاس مطب میں بیٹھا تھا۔فرمانے لگے کہ یہ جگہ مجھے دے دو۔مریضوں کی رہائش کے لئے درکار ہے۔یہ حضرت مولوی صاحب کے مکان کے ملحق ہے۔میں نے عرض کیا کہ جیسے آپ پسند فرماویں دریافت فرمانے پر کہ کتنا خرچ آیا ہے میں نے نوے روپے گنوائے تو مجھے مطب کے مغربی دروازے سے نکل کر پچھواڑے کی طرف آنے کے لئے فرمایا اور خودمکان کے مشرق کی طرف سے آئے اور بک ڈپو کے پچھواڑے میں کنوئیں کے پاس ملے اور مجھے سوروپے کا ایک نوٹ دے کر فرمایا کہ دس روپے مجھے واپس دے دینا۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ رزق غیب کی صورت ہوگی۔مطب میں روپیہ رکھنے کی کوئی جگہ نہ تھی اور اگر گھر میں کسی جگہ رکھتے تھے یا جیب میں تھے تو مجھے ایک طرف سے بھیج کر خود دوسری طرف سے آنے کی کیا ضرورت تھی۔“ مکرم بھائی عبدالرحیم صاحب اور مکرم میاں محمد عبد اللہ خاں صاحب بیان کرتے ہیں کہ دوسری بار قیام مالیر کوٹلہ کے اثناء میں میاں عبدالرحیم خاں صاحب کی ولادت ہوئی انہیں سانس نہ آیا۔حضرت مولوی صاحب کے ارشاد پر انہیں باری باری ایک ٹھنڈے اور ایک گرم پانی کے ٹب میں ڈبویا گیا جس سے سانس جاری ہو گیا۔میاں عبدالرحیم خان صاحب کی تاریخ ولادت ۱۳ یا ۱۴ جنوری ۱۸۹۷ء اور نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کی تاریخ ولادت ۲ مارچ ۹۷ء ہے۔سیدہ موصوفہ فرماتی ہیں کہ یہ امر یقینی ہے کہ میری ولادت کے موقعہ پر حضرت اماں جان کی طبیعت ناساز ہو گئی تھی۔اس لئے تار دے کر حضرت مولوی صاحب کو مالیر کوٹلہ سے بلوالیا تھا۔مکرم میاں محمد عبدالرحمن خاں صاحب بھی اس دفعہ کا قیام اند از اڈیڑھ ماہ تک کا بتاتے ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مولوی صاحب وسط جنوری تک دوبارہ مالیر کوٹلہ تشریف لے جاچکے ہوں گے۔حضرت اقدس تحریر فرماتے ہیں کہ یکم فروری ۱۸۹۷ء کو ذیل کی پیشگوئی بیان کی گئی جو مارچ ۱۸۹۷ء میں پوری ہوئی۔