اصحاب احمد (جلد 2) — Page 90
90 باورچی خانہ میں کر دی کہ ملازم باوجود ہماری منت سماجت کے ہم سے کھانا تبدیل کرنے سے رک گئے۔جو مکرم میاں عبد الرحمن خاں صاحب بیان کرتے ہیں کہ : ” حضرت نواب صاحب فرماتے تھے کہ ان ایام میں مالیر کوٹلہ میں بھیرہ کے رہنے والے ڈاکٹر بھگت رام ساہنی پریکٹس کرتے تھے۔ہموطن ہونے کے علاوہ وہ کشمیر میں بھی ملازم رہ چکے تھے وہ حضرت مولوی صاحب کی بہت عزت و تکریم کرتے تھے۔ڈاکٹر صاحب نے ذکر کیا کہ میں کہیں نہیں جاتا اور مجھے ایک ہزار روپیہ ماہوار آمد ہو جاتی ہے۔اس پر حضرت مولوی صاحب نے فرمایا کہ میں بھی کہیں نہیں جاتا پھر بھی مجھے اتنی ہی آمد ہو جاتی ہے۔ان ایام کا ذکر کر کے حضرت مولوی صاحب ایک مکتوب میں نواب صاحب کو نصیحت کرتے ہوئے اپنی آمد اور غیب سے رزق کا سامان ہونے کا یوں ذکر فرماتے ہیں: ”میرا عریضہ توجہ سے پڑہیں اور ایک آیت ہے قرآن کریم میں اس پر آپ پوری غور فرماویں وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًالٌ وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لا يَحْتَسِبُ یہ نابکار خاکسار راقم الحروف متقی بھی نہیں ہاں متقی لوگوں کا محبت اور پورا محبت۔مجھے بھی بمقام مالیر کوٹلہ بڑی بڑی ضرورتیں پیش آتی رہیں اور قریب قریب اٹڈ ہائی ہزار کے قریب خرچ ہوا۔مگر کیا آپ معلوم کر سکتے ہیں کہ وہ کہاں سے آیا۔شاید دو تین سو سے کچھ زائد کا آپ کو پتہ ہوگا مگر باقی کا علم سوائے میرے مولیٰ کریم کے کسی کو بھی نہیں۔حتی کہ میری بی بی کو بھی نہیں۔جلسہ اعظم مذاہب میں شمولیت کے بعد جنوری ۱۸۹۷ء میں حضرت مولوی صاحب پھر مالیر کوٹلہ تشریف لے گئے۔آپ کے اہل بیت بھی اس دوسری دفعہ کے قیام میں آپ کے شریک تھے۔حضرت ام المؤمنین مکرم بھائی صاحبان بتاتے ہیں کہ ان طلباء میں سے ہمیں حکیم محمد زمان صاحب حکیم غلام محمد صاحب رضی اللہ عنھما اور حکیم دین محمد ملتانی اور خا کی شاہ یاد ہیں حکیم غلام محمد صاحب اس وقت احمدی تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حکیم محمد زمان صاحب بعد میں حضرت نواب صاحب کے ملازم ہو گئے تھے مخلص احمدی تھے۔حکیم غلام محمد صاحب خاکسار کے سب سے بڑے تایا تھے بہشتی مقبرہ میں مدفون ہیں۔مکرم بھائی صاحبان فرماتے ہیں کہ حکیم دین محمد ملتانی نے بعد ازاں خلاف شرع نکاح کر لیا اور احمدیت سے منقطع ہوگیا۔۔۔غلام محی الدین عرف خا کی شاہ کے متعلق عرفانی صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ وہ قادیان سے نکالا گیا اور مرتد مرا۔( نوٹ بر مکتوب نمبر ۱۳) پیاروں کی ہر بات پیاری ہوتی ہے اس لئے ایک واقعہ اگر یہاں حضرت مولوی صاحب کے تعلق میں ذکر کر دوں تو امید ہے کہ قارئین کرام معاف فرمائیں گے مکرم بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی ( درویش) بیان فرماتے ہیں کہ میں حضرت مولوی صاحب کے گھر کے ایک حصہ میں رہتا تھا۔حضرت پیر منظور محمد صاحب